
بدھشت باغی گروپ اراکان آرمی کی جانب سے خطے کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کے نتیجے میں مسلسل نقل مکانی، بڑے پیمانے پر ہلاکتیں، مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عالمی برادری اس مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام رہی تو روہنگیا مسلمانوں کو اپنے وطن سے محروم ہونے کا خطرہ ہے۔
اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی رپورٹر کی رپورٹ پر توجہ دیں ۔
صوبہ راخین کے رہائشیوں کی مسلسل جبری نقل مکانی کے بعد موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، اس خطہ میں رہنے والے تقریبا 600000 روہنگیا مسلمانوں میں سے اندازوں کے مطابق گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران 10000 کو بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور کیا گیا ہے۔
روہنگیا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری ایک بار پھر اس مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام رہی تو ہم اپنی زمین کھو دیں گے۔ میانمار میں سب سے نازک مسئلہ مجرموں سے حفاظت ہے۔ جب کہ میانمار کی فوج نے 1978 سے بغیر کسی سزا یا روک ٹوک کے اپنے جرائم کو جاری رکھا ہوا ہے اور بین الاقوامی ادارے روہنگیا کمیونٹی کو درپیش مسائل سے نپٹنے میں انتہائی غیر فعال اور غیر موثر ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے جرائم کے حوالے سے بین الاقوامی عدالت میں مقدمات کی سماعت جاری ہے، تاہم، ان مقدمات کو انجام تک پہنچانے کا وقت واضح نہیں ہے.
روہنگیا مسلم کمیونٹی کے لئے ایک اہم قدم بین الاقوامی اداروں کی مداخلت، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی منظوری یا روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لئے بین الاقوامی اتحاد کی تشکیل ہوگا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا کہ اگر مداخلت نہ کی گئی تو گڈشتہ تین چار ماہ کے دوران ہونے والے تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس میں رپورٹس کے مطابق 2000 سے 2500 تک ہلاکتیں ہوئیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایسی صورت حال میں باقی ماندہ روہنگیا مسلمانوں میں سے نصف جن کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہے بنگلہ دیش فرار ہونے پر مجبور ہو جائیں گے۔ گذشتہ نومبر سے میانمار کی فوج اور اراکان آرمی جو کہ ایک بدھشت فوج ہے، نے ان علاقوں کو فتنہ و فساد اور تنازعات کے طور پر استعمال کیا ہے جہاں روہنگیا مسلمان رہتے ہیں۔ پورے خطہ کو کنٹرول کرنے کے لئے اراکان آرمی کی کوششیں مسلسل بے گھر ہونے، بڑے پیمانے پر ہلاکتوں، جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا باعث بنی ہیں اور روہنگیا مسلمانوں کو انسانی امداد اور صحت کی دیکھ بھال جیسی خدمات تک رسائی سے محروم کر دیا ہے۔
سن 2017 میں میانمار کی فوج نے روہنگیا مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے 400 دیہاتوں کو جلا دیا، سینکڑوں خواتین کی عصمت دری اور یہاں تک کہ بچوں کو جلا کر مار ڈالا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا خیال ہے کہ نہ تو میانمار کی فوج اور نہ ہی اراکان کی فوج عوام کے حالات کو بہتر بنانے کا کوئی ارادہ ظاہر کرتی ہے اس لئے بین الاقوامی مداخلت ہی روہنگیا برادری کی واحد امید ہے۔
اس سلسلہ میں بنگلہ دیش جہاں میانمار کی فوج کے حملوں کی وجہ سے روہنگیا پناہ گذینوں نے پناہ لی ہے، عالمی برادری کو اس بات پر قائل کرنا ہوگا کہ روہنگیا مسلمانوں کی ان کے وطن واپسی کے عمل کا صحیح طریقہ سے انتظام کیا گیا ہے اور اگر بنگلہ دیش اس مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو روہنگیا مسلمان حالات تبدیل ہونے تک بنگلہ دیش میں رہنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
اس کے علاوہ میانمار میں رہنے والے 600000 روہنگیا مسلمان مشکل حالات میں ہیں اور ان میں سے تقریبا 130000 ایسے کیمپوں میں رہتے ہیں جو خاردار تاروں اور نگرانی کے ٹاور سے لیس ہیں۔ بقیہ روہنگیا جیل جیسے حالات میں زندہ رہنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں کیونکہ حالات خاص طور پہ اراکان عالمی کے زیر کنٹرول علاقوں میں خراب ہوتے جا رہے ہیں۔




