شیعہ مرجعیت

استغفار ہمیشہ گناہ کا اعتراف نہیں ہوتا، بلکہ بندگی اور عاجزی کا اظہار بھی ہے: آیت اللہ العظمیٰ شیرازی

استغفار ہمیشہ گناہ کا اعتراف نہیں ہوتا، بلکہ بندگی اور عاجزی کا اظہار بھی ہے: آیت اللہ العظمیٰ شیرازی
 
آیت اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کا روزانہ علمی درس پیر 21 جمادی الاول 1448ھ کو منعقد ہوا۔
درس میں حسبِ معمول حاضرین نے فقہ کے مختلف مسائل پر سوالات کیے، جن کے آپ نے جواب دیے۔
آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی یہ حدیث بیان کی: «إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً مِنْ غَيْرِ ذَنْبٍ» (یعنی میں روزانہ ستر بار استغفار کرتا ہوں، حالانکہ مجھ سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا ہوتا)۔ اس کی روشنی میں آپ نے فرمایا کہ استغفار کا مطلب صرف گناہ کی معافی مانگنا نہیں ہے۔ کبھی یہ انسان کی عاجزی کا اظہار بھی ہوتا ہے اور اس بات کا اقرار بھی کہ بندہ اللہ کی عظمت کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ اسی لیے سلمانؓ اور ابوذرؓ جیسے بزرگ، جن سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوتا تھا، پھر بھی استغفار کرتے تھے۔
آپ نے لفظ "مغفرت” کا مطلب اور اس کی حقیقت بھی سمجھائی۔ فرمایا کہ یہ لفظ "مِغفَر” سے نکلا ہے، یعنی لوہے کی وہ ٹوپی (خود) جو سر کو تلوار کے وار سے بچاتی ہے۔ اس لحاظ سے مغفرت کی حقیقت اللہ کی طرف سے "ستر” یعنی پردہ پوشی اور حفاظت ہے۔ یہ پردہ پوشی کبھی گناہوں کی ہوتی ہے، اور کبھی اللہ کے خاص بندوں، رسولِ خدا اور معصومین علیہم السلام کے لیے ہوتی ہے، جو عصمتِ کبریٰ کے بلند مقام پر فائز ہیں۔
آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے قرآنِ کریم کی بلاغت کی طرف بھی توجہ دلائی۔ فرمایا کہ ایسے مفاہیم میں مجاز اور استعارے کا استعمال کلام کی فصاحت و بلاغت کا حسن ہے۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں حقیقی معنوں کے مقابلے میں مجازی استعمال کہیں زیادہ نظر آتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button