اسلامی دنیاتاریخ اسلامعراق

ثورة العشرین کی تشکیل میں شیعہ مرجعیت کا تاریخی اور لازوال کردار

میرزائے شیرازی ثانی کے ولولہ انگیز فتوے سے پہلی قومی حکومت کی بنیاد تک

20 ربیع الثانی 1337 ہجری، سن 1920ء کے تاریخی قیام "ثورة العشرین” کے آغاز کی سالگرہ ہے۔

یہ وہ واقعہ ہے جس میں آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا محمد تقی شیرازی کے فتوے نے عراقی عوام اور قبائل کو برطانوی قبضے کے خلاف متحد کر دیا اور اس ملک کی سیاسی تقدیر کو بدل کر رکھ دیا۔

اس حوالے سے ہمارے ساتھی نے ایک رپورٹ تیار کی ہے، آئیے مل کر دیکھتے ہیں:

پہلی جنگِ عظیم کی چنگاری بھڑکتے ہی برطانوی جارح افواج نے خلیجِ فارس کی جانب سے عراق کی سرزمین پر ـ جو اس وقت سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھی ـ یلغار کر دی۔

اس نازک تاریخی موڑ پر، عثمانی حکومت سے شدید گلے شکووں کے باوجود، عراق کے عوام اور عشائر و قبائل مرجعِ عالی قدر شیعہ آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا محمد تقی شیرازی کی رہنمائی پر اعتماد کرتے ہوئے، اسلامی سرزمین کے دفاع کی خاطر قابض افواج کے سامنے صف بستہ ہو گئے۔

مرحوم آیۃ اللہ العظمیٰ سید محسن حکیم جیسی جلیل القدر شخصیات خود بنفسِ نفیس محاذِ جنگ پر پہنچیں اور آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا محمد تقی شیرازی جیسے فقہائے عظام نے سامرا سے انگریز غاصبوں کے مقابل جہاد اور دفاع کے وجوب کا حکم صادر فرمایا۔

جنگ کے اختتام اور عراق کی سرزمین پر برطانیہ کے مکمل تسلط کے بعد، لندن کے استعماری حکام نے اپنے مستقل قیام کو قانونی جواز دینے کے لئے ایک نمائشی استصوابِ عامہ کا ڈرامہ رچایا۔

لیکن بیدار شیعہ مرجعیت نے پوری بصیرت کے ساتھ اس فریب کے پسِ پردہ عزائم کو بھانپ لیا۔

آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا محمد تقی شیرازی نے نہایت جرأت مندانہ اقدام کرتے ہوئے تاریخی فتویٰ صادر فرمایا: "مسلمانوں پر حکمرانی کا حق مسلمانوں کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔”

اگرچہ مختلف طبقات کے نمائندے بغداد میں ایک عرب، خودمختار حکومت اور قانون ساز اسمبلی کے قیام کے خواہاں تھے، مگر برطانوی حکام نے عوام کی حقیقی امنگوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے صرف اپنے حامیوں کی آراء کو ثبت کیا۔

یہ متعصبانہ اور تحقیر آمیز رویے بالآخر 1920ء کے موسمِ گرما میں ملت کے غم و غصے کی چنگاری بن کر بھڑک اٹھے اور "ثورة العشرین” کی ہمہ گیر تحریک کی صورت اختیار کر گئے۔

یہ انقلاب 1920، جس کا مقصد غاصبوں کو نکال باہر کرنا اور ایک آزاد حکومت کا قیام تھا، عراق کے تقریباً ایک تہائی حصے پر چھا گیا اور علماء و فقہاء قائدین کی بے مثال قیادت میں آگے بڑھا۔

آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا محمد تقی شیرازی نے مقدس شہر کربلا میں مجلسِ انقلاب قائم کر کے پہلی معاصر اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔

آپ نے انقلابِ عراق کی قیادت کے لئے ولولہ انگیز فتویٰ صادر فرمانے کے بعد ایک مجلس تشکیل دی تاکہ ایک جانب اراکین سے مشاورت کر سکیں اور دوسری جانب ان کے ذریعہ اپنے احکامات مجاہدین تک پہنچا سکیں۔

اس مجلس میں جلیل القدر اور نامور علماء شریک تھے، جن میں سے چند یہ ہیں:

  1. شیخ محمد رضا شیرازی، میرزا محمد تقی شیرازی قدس سرہ کے فرزندِ ارشد؛
  2. سید ہبة الدین شہرستانی؛
  3. میرزا احمد خراسانی، محققِ بزرگ و اصولیِ نامور مرحوم آخوند خراسانی کے فرزند؛
  4. سید ابوالقاسم کاشانی؛
  5. شیخ مہدی خالصی۔

تاہم، اسلحہ و وسائل کی شدید نا برابری، برطانیہ کا فضائی طاقت کا بے دریغ استعمال اور مسلسل کمک کی آمد کے باعث، تین ماہ کی ناہموار جنگ اور 9 ہزار سے زائد شہداء کی قربانی کے بعد یہ قیام بظاہر دبا دیا گیا؛ اگرچہ بھاری جانی و مالی نقصان نے برطانیہ کو براہِ راست حکمرانی سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا۔

ان معرکوں کے بعد برطانوی حکومت سن 1921ء میں فیصل (معروف بہ شاہ فیصل اول) کی سربراہی میں بظاہر ایک قومی حکومت قائم کرنے پر مجبور ہوئی؛ ایسی حکومت جسے ایک بار پھر شیعوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ وہ عوامی مرضی کے بغیر مسلط کی گئی تھی اور اس کا انتظامی ڈھانچہ سراسر امتیازی تھا۔

بہر کیف، آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا محمد تقی شیرازی کی قیادت میں مرجعیتِ شیعہ کے زیرِ اثر برپا ہونے والے قیامِ 1920ء نے ثابت کر دیا کہ عوامی مزاحمت بڑے سے بڑے استعماری منصوبوں کو خاک میں ملانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور یہی قیام عراق کی معاصر تاریخ میں استقلال اور قومی تشخص کا حقیقی بانی تھا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button