ایران اور پاکستان کے سرحدی گزرگاہوں پر تجارتی ٹرکوں کی طویل عرصے سے بندش؛ غذائی اشیا کے خراب ہونے اور ڈرائیوروں کے ایندھن کے بحران کا خدشہ
ایران اور پاکستان کے سرحدی گزرگاہوں پر تجارتی ٹرکوں کی طویل عرصے سے بندش؛ غذائی اشیا کے خراب ہونے اور ڈرائیوروں کے ایندھن کے بحران کا خدشہ
ایران اور پاکستان کے سرحدی گزرگاہوں پر سیکڑوں تجارتی ٹرکوں کی طویل قطاروں اور مسلسل تعطل نے ڈرائیوروں کے معاشی حالات اور تجارتی سامان کی سلامتی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
تجارتی سرگرمیوں کے ایک حصہ کو مشرقی زمینی راستوں کی جانب منتقل کئے جانے اور ریمدان اور پیشین جیسی سرحدی گزرگاہوں پر مناسب بنیادی ڈھانچے کی عدم موجودگی کے باعث بڑے پیمانے پر بے یقینی پیدا ہوگئی ہے، جبکہ ٹرکوں کی قطاریں کئی ہفتوں سے لگی ہوئی ہیں۔
روزنامہ انڈیپنڈنٹ کے مطابق، سرحدی بندش کے باعث ڈرائیوروں کا ایندھن کا ذخیرہ ختم ہو رہا ہے، جبکہ ریفریجریٹر ٹرکوں میں ٹھنڈک برقرار رکھنے والے نظام بھی بند ہونے لگے ہیں، جس سے برآمد کی جانے والی غذائی اشیا، پھلوں اور سبزیوں کے خراب ہونے کا سنگین خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
تجارتی حلقوں اور ٹرانسپورٹیشن کمیشن کے عہدیداروں نے اس بحران کی بنیادی وجوہات میں سرحدی گزرگاہوں کے بنیادی ڈھانچے کی عدم تیاری اور پاکستانی فریق کی جانب سے عائد کئے گئے نئے بھاری محصولات کو قرار دیا ہے، جس کے نتیجہ میں تجارتی ٹرکوں کی آمد و رفت تقریباً مکمل طور پر متاثر ہوگئی ہے۔




