
گزشتہ چند ماہ کے دوران جنوبی افریقہ کے سوشل میڈیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بیانیے اور مواد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو ملک میں جاری مخالفِ مہاجرت تحریکوں سے بھی جڑتے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر سرگرم بعض اکاؤنٹس جھوٹے دعوے پھیلا کر اسلامی اداروں کی فلاحی سرگرمیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور جنوبی افریقہ میں صدیوں سے آباد مسلم اقلیت کی موجودگی کو ملک کے سماجی ڈھانچے کے لیے خطرہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتِ حال نے مذہبی رہنماؤں اور سیاسی تجزیہ کاروں کے درمیان مختلف ردِعمل کو جنم دیا ہے۔
جنوبی افریقہ میں زمینی جائزوں اور سوشل میڈیا کی نگرانی سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف گمراہ کن بیانیے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
مخالفین اقتصادی مشکلات اور مخالفِ مہاجرت جذبات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامی فلاحی اداروں پر بے بنیاد الزامات عائد کر رہے ہیں تاکہ معاشرے میں اسلام کی شبیہ کو متاثر کیا جا سکے۔
اس جانب دارانہ رویے کے ذریعہ فلاحی خدمات کو منفی رنگ دینے اور شہریوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے فلاحی اداروں، جن میں ’’گفٹ آف دی گیورز‘‘ (Gift of the Givers) بھی شامل ہے، کے خلاف متعدد حملے سامنے آئے ہیں۔
حملہ آور صارفین ان اداروں پر مقامی غریب آبادی کی مشکلات سے فائدہ اٹھا کر لوگوں کا مذہب تبدیل کرنے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی موجودگی ملک میں بدامنی کا سبب بن رہی ہے۔
یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوبی افریقہ کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا حصہ تقریباً 1.6 فیصد ہے۔ تاہم، ملک میں مسلمانوں کی موجودگی کی تاریخ 17ویں صدی عیسوی اور نوآبادیاتی دور کے خلاف جدوجہد تک پھیلی ہوئی ہے۔
الجزیرہ کی تجزیاتی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ آن لائن متعصبانہ اظہارِ خیال میں اضافہ ہوا ہے، تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی ان سرگرمیوں کو پورے جنوبی افریقی معاشرے کی نمائندگی قرار نہیں دینا چاہیے۔
مسلمان سیاسی تجزیہ کار تمبیسا فاکودے نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی افریقہ کے عوام میں منظم اور وسیع پیمانے پر اسلام دشمنی موجود نہیں ہے اور آن لائن ان تحریکوں کے اثر و رسوخ کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔
تاہم، بعض مذہبی رہنما ان مہمات کے طویل مدتی اثرات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملک کے عام شہری مسلمانوں کے ساتھ منصفانہ رویہ رکھتے ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر ان گمراہ کن بیانیوں کا بے قابو تسلسل مستقبل میں حقیقی مسائل اور غلط فہمیوں کو جنم دے سکتا ہے۔
ان آن لائن رجحانات کو نظرانداز کرنا جنوبی افریقہ میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان پرامن بقائے باہمی اور باہمی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔




