تاریخ اسلام

15 ربیع الاول؛ سلیمان بن مهران اعمش کوفی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

حدیث و ولایت کا روشن چراغ

اسلامی تاریخ کے افق پر بعض شخصیات ایسی طلوع ہوتی ہیں جن کی علمی و روحانی تابانی صدیوں کا سفر طے کرنے کے باوجود ماند نہیں پڑتی۔ جناب سلیمان بن مهران، معروف بہ اعمش، انہی ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے کوفہ کے علمی ماحول میں قرآن، حدیث، فقہ اور معارفِ اہل بیت علیہم السلام کی خدمت میں اپنی زندگی بسر کی۔

اعمش کا تعلق ایرانی نژاد خاندان سے تھا اور وہ کوفہ میں پلے بڑھے۔ ان کے والد سلیمان ایرانی نژاد تھے اور واقعۂ کربلا کے زمانے میں کوفہ میں موجود تھے۔ اعمش نے بعد میں کوفہ ہی کو اپنا علمی مرکز بنایا اور علومِ قرآن و حدیث میں ایسا مقام حاصل کیا کہ شیعہ و سنی دونوں حلقوں کے متعدد اہلِ علم نے ان کی علمی عظمت، وثاقت، فضل اور تقویٰ کا اعتراف کیا۔

اعمش محض ایک نامور محدث اور قاریِ قرآن نہیں تھے؛ وہ اہل بیت علیہم السلام کی ولایت اور فضائل کے مضبوط راوی بھی تھے۔ شیخ طوسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے انہیں امام جعفر صادق علیہ السلام کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔ متعدد شیعہ علماء نے بھی ان کی تشیع، وثاقت، زہد اور اہل بیت علیہم السلام سے گہری وابستگی کی تصریح کی ہے۔ دوسری جانب اہل سنت کے معروف رجال نگاروں نے بھی ان کے علمی مقام اور حدیثی وثاقت کو تسلیم کیا ہے۔

ان کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو حق گوئی اور استقامت ہے۔ وہ ایسے دور میں زندگی گزار رہے تھے جب اہل بیت علیہم السلام کے فضائل بیان کرنا ہر شخص کے لئے آسان نہ تھا، لیکن اعمش نے مصلحت کے بجائے حق کو ترجیح دی۔ منصور دوانیقی کے دربار میں فضائلِ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے حوالے سے ان کا طرزِ گفتگو اور ہشام بن عبدالملک کی جانب سے حضرت علی علیہ السلام کے خلاف مواد فراہم کرنے کے مطالبے پر ان کا جواب، ان کی جرأتِ ایمانی اور ولایت سے وابستگی کی روشن مثالیں ہیں۔

اعمش کی شخصیت میں علم کے ساتھ عبادت اور تقویٰ بھی نمایاں تھا۔ روایات کے مطابق وہ نماز کے بے حد پابند تھے اور نمازِ جماعت کی پہلی صف کی خصوصی اہمیت سمجھتے تھے۔ ان کے بارے میں یہ بھی منقول ہے کہ زندگی کے آخری ایام میں وہ اپنے گناہوں اور لغزشوں کے بارے میں سخت خوف محسوس کرتے اور آخرت کی فکر میں بے چین رہتے تھے۔ یہ کیفیت بتاتی ہے کہ ان کے نزدیک علم محض ذہنی ذخیرہ نہیں بلکہ انسان کو خدا کے سامنے جواب دہ بنانے والی ذمہ داری تھا۔

اعمش نے متعدد بزرگ اساتذہ سے علم حاصل کیا اور ان کے گرد بھی بڑے بڑے محدثین و دانشور جمع ہوئے۔ ان کے شاگردوں میں سفیان ثوری، ابان بن تغلب اور دیگر معروف اہلِ علم شامل ہیں۔ ان سے منقول روایات بعد کی صدیوں میں شیعہ اور سنی دونوں حدیثی ذخائر کا حصہ بنیں، جس سے ان کے وسیع علمی اثرات کا اندازہ ہوتا ہے۔

امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک نہایت اہم پیغام اعمش کی روایت کے ذریعہ ہم تک پہنچا: "کُونُوا لَنَا زَیْناً وَلَا تَکُونُوا عَلَیْنَا شَیْناً”؛ یعنی ہمارے لئے زینت بنو، ہمارے لئے باعثِ ننگ نہ بنو۔ یہ مختصر جملہ دراصل تشیع کے اخلاقی کردار کا ایک جامع منشور ہے: زبان میں شائستگی، معاملات میں حسنِ سلوک اور کردار میں پاکیزگی۔

اعمش نے 148 ہجری میں اس دنیا سے رختِ سفر باندھا، مگر ان کا علمی و حدیثی سرمایہ آج بھی زندہ ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی علم وہ ہے جو انسان کو حق شناس، حق گو، عبادت گزار اور صاحبِ کردار بنائے۔

یومِ وفاتِ سلیمان بن مهران اعمش ہمیں اسی روشن میراث کی طرف متوجہ کرتا ہے: علم کو معرفت بنائیے، معرفت کو ولایت سے جوڑیے اور ولایت کو اپنے کردار میں ظاہر کیجیے۔ یہی اعمش کی زندگی کا سب سے خوبصورت پیغام اور ان کی دیرپا علمی میراث ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button