شیعہ مرجعیت

آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاضؒ کے انتقال پر عالمی سطح پر تعزیت کا اظہار

آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاضؒ کے انتقال پر عالمی سطح پر تعزیت کا اظہار

متعدد بین الاقوامی تنظیموں، مختلف ممالک کے اعلیٰ حکام، گوناگوں ادیان و مذاہب کی معروف شخصیات اور مختلف ممالک کے اسلامی و شیعہ اداروں نے آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاضؒ کے انتقال پر دینی مراجع اور عراقی عوام سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

افغانستان کی شیعہ علماء کونسل نے بھی اپنے ایک رسمی بیان میں کہا کہ آیۃ اللہ العظمیٰ فیاضؒ کے انتقال سے نجف اشرف کی قدیم علمی درسگاہ کا ایک اہم ستون اور عالمِ اسلام کا ایک عظیم علمی سرمایہ رخصت ہوگیا ہے۔

کونسل نے مرحوم مرجعِ عالی قدر کو اخلاص، تواضع، حکمت، معرفت اور علمی جدوجہد کی علامت قرار دیا۔

علاقائی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی آیۃ اللہ العظمیٰ فیاضؒ کے انتقال کو حالیہ برسوں میں عالمِ تشیع کے لیے سب سے بڑے علمی و مذہبی نقصانات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے طلبہ و علماء کی تربیت، اسلامی معارف کی اشاعت اور شیعہ معاشروں کے درمیان ثقافتی روابط کے استحکام میں ان کے نمایاں کردار کو اجاگر کیا۔

آیۃ اللہ العظمیٰ محمد اسحاق فیاضؒ سن 1309 ہجری شمسی میں افغانستان کے صوبہ غزنی کے ضلع جاغوری میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ عراق تشریف لے گئے اور حوزۂ علمیہ نجف اشرف میں عظیم اساتذہ، بالخصوص آیۃ اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئیؒ کے زیرِ سایہ علمی تعلیم و تربیت حاصل کی۔

بعد ازاں آپ آیۃ اللہ العظمیٰ خوئیؒ کے ممتاز ترین شاگردوں میں شمار ہونے لگے اور کئی دہائیوں تک نجف اشرف میں خارجِ فقہ و اصول کے درس کی مسند سنبھالے رکھی۔

یہ فقید مرجع، آیاتِ عظام سید علی سیستانی، محمد سعید حکیم اور بشیر نجفی کے ہمراہ نجف اشرف میں مرجعیتِ شیعہ کے اہم ترین ارکان میں شمار ہوتے تھے۔

سادہ طرزِ زندگی، اعلیٰ اخلاق، علمی تحقیق سے گہری وابستگی، شاگردوں کی تربیت اور سیاسی کشمکش سے دور رہنا ان کی نمایاں شخصی خصوصیات میں شامل تھا۔

آیۃ اللہ العظمیٰ فیاضؒ نے فقہی، سماجی اور ثقافتی موضوعات پر متعدد علمی آثار اور قیمتی آراء یادگار چھوڑیں۔ آپ کے بعض بیانات میں مختلف ادیان کے پیروکاروں کے درمیان پرامن بقائے باہمی اور باہمی احترام پر بھی خاص زور دیا گیا ہے۔

آج ان کے انتقال کے ساتھ عالمِ تشیع اپنی ایک نہایت مؤثر علمی و روحانی شخصیت سے محروم ہوگیا ہے۔ وہ ایسی عظیم ہستی تھے جنہوں نے کئی دہائیوں تک معارفِ اہلِ بیت علیہم السلام کی ترویج، طلاب کی تربیت، اعتدال کی ثقافت کے فروغ، اسلامی وحدت کے دفاع اور امتِ مسلمہ کی خدمت میں اپنی زندگی وقف کیے رکھی۔

اسی بنا پر آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاضؒ کا نام عصرِ حاضر کے ممتاز مراجعِ تقلید میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور حوزۂ علمیہ نجف اشرف اور عالمِ اسلام کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جاتا رہے گا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button