افغان لڑکیوں نے اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل کو خط لکھ کر تعلیمی محرومی کے خاتمے کا مطالبہ کیا؛ خواتین نسل کے تاریک مستقبل سے خبردار
افغان لڑکیوں نے اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل کو خط لکھ کر تعلیمی محرومی کے خاتمے کا مطالبہ کیا؛ خواتین نسل کے تاریک مستقبل سے خبردار
افغانستان کی درجنوں لڑکیوں نے اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل کو ہاتھ سے لکھے گئے خطوط ارسال کرکے تعلیم سے مسلسل محرومی اور اس کے ملک کے مستقبل پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے اور عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی رپورٹر کی رپورٹ پر توجہ دیں۔
افغانستان کی درجنوں لڑکیوں نے اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل کو بھیجے گئے خطوط میں ملک میں تعلیمی پابندیوں اور سخت حالات پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ افغانستان میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد خواتین اور لڑکیوں کے لئے تعلیم، روزگار اور بعض بنیادی آزادیوں تک رسائی شدید حد تک محدود ہو گئی ہے، جبکہ اسکولوں اور جامعات کے دروازے اب بھی ان کے لیے بند ہیں۔
ان خطوط میں موجودہ صورتِ حال کو "انتہائی مشکل اور تشویشناک” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس صورتحال کے تسلسل پر خاموش تماشائی نہ بنے۔
افغانستان کے ٹیلیگرام چینل "خبرتازه” کے مطابق، ان لڑکیوں نے اقوامِ متحدہ سے درخواست کی ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے سے قبل انسانی حقوق، بالخصوص خواتین کے حقِ تعلیم، کو ایک بنیادی شرط کے طور پر مدنظر رکھا جائے۔
گزشتہ چند برسوں میں افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم کا مسئلہ ایک سنگین سماجی اور انسانی بحران کی صورت اختیار کر گیا ہے۔
مختلف رپورٹس کے مطابق لاکھوں لڑکیاں ثانوی اور اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں، جسے ماہرین انسانی ترقی اور ملک کے اقتصادی مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔
متعدد خاندان بھی اپنی بچیوں کے لئے تعلیمی مواقع نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور اسے معاشرے میں بڑھتی ہوئی مایوسی کا سبب سمجھتے ہیں۔
خطوط کے ایک اور حصے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عالمی برادری کی خاموشی افغانستان کی خواتین کے وسیع پیمانے پر ہونے والے دکھ اور مشکلات کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگی۔
خط لکھنے والی لڑکیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو نہ صرف ان کی ذاتی زندگی متاثر ہوگی بلکہ ملک کی ثقافتی، علمی اور سماجی صلاحیتیں بھی بتدریج ماند پڑ سکتی ہیں۔
اسی طرح بعض انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنی الگ رپورٹس میں کہا ہے کہ موجودہ تعلیمی پابندیاں افغانستان کے سماجی ڈھانچے پر طویل المدت اثرات مرتب کریں گی اور مختلف نسلوں کے درمیان تعلیمی خلیج کو مزید گہرا کر سکتی ہیں۔
ان اداروں کا کہنا ہے کہ اس رجحان کے جاری رہنے سے پائیدار ترقی کے مواقع شدید متاثر ہوں گے۔
دوسری جانب سماجی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ لڑکیوں کو طویل عرصے تک تعلیم سے محروم رکھنے کے نتیجے میں غربت میں اضافہ، خواتین کی سماجی شمولیت میں کمی اور آئندہ برسوں میں مختلف سماجی مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق تعلیم خواتین کو بااختیار بنانے کا ایک بنیادی ذریعہ ہے، اور اس سے محرومی ملک کے مستقبل کو مزید پیچیدہ چیلنجوں سے دوچار کر سکتی ہے۔




