افغانستان

افغانستان میں جبری شادیوں کا سلسلہ جاری؛ گھریلو تشدد اور مستقبل سے محرومی کا شکار لڑکیوں کی دردناک داستانیں

افغانستان میں جبری شادیوں کا سلسلہ جاری؛ گھریلو تشدد اور مستقبل سے محرومی کا شکار لڑکیوں کی دردناک داستانیں

افغانستان سے موصول ہونے والی تازہ رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ جبری شادیاں اب بھی لڑکیوں کے لئے سنگین سماجی مسائل میں سے ایک ہیں۔

متاثرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق یہ ظلم نہ صرف گھریلو تشدد اور ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بن رہا ہے بلکہ بے شمار لڑکیوں کے مستقبل کو بھی تباہ کر رہا ہے۔

ہمارے نمائندے نے اپنی رپورٹ میں اس مسئلے کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، ملاحظہ کیجیے:

افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی صورتِ حال پر بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان، جبری شادیوں کا شکار متعدد لڑکیوں کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی اپنی معنویت کھو چکی ہے اور ان کے بیشتر خواب خاندانوں کے زبردستی فیصلوں کی نذر ہو گئے ہیں۔

ان متاثرہ لڑکیوں کا کہنا ہے کہ اکثر مواقع پر کم عمر لڑکیوں کی مرضی کے بغیر ان کی شادی ایسے مردوں سے کر دی جاتی ہے جن کی عمر ان سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔

اس ظلم کا شکار بعض لڑکیوں نے بتایا کہ جب انہوں نے خاندان کے فیصلے کی مخالفت کی تو انہیں شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں دھمکیاں دی گئیں، گھروں میں قید رکھا گیا اور اپنی زندگی کے انتخاب کا حق بھی چھین لیا گیا۔ ان کے مطابق سماجی اور روایتی دباؤ نے ان کے لیے احتجاج یا مزاحمت کی ہر راہ بند کر دی ہے۔

افغان اخبار 8 صبح کی رپورٹ کے مطابق، ایک لڑکی جس نے اپنا فرضی نام “مشعل” بتایا، نے کہا کہ اس کے خاندان نے ایک رشتہ دار لڑکے سے اس کی فون پر گفتگو کا علم ہونے کے بعد اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور قید کر دیا۔

اس نے یہ بھی بتایا کہ اس کے گھر والوں نے اس کے ہاتھ پاؤں زنجیروں سے باندھ دیے تھے اور یہاں تک کہ اسے اور اس کے پسند کے لڑکے کو قتل کرنے کا ارادہ بھی رکھتے تھے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں جبری شادیوں کا سلسلہ وسیع پیمانے پر جاری ہے اور بے شمار لڑکیاں غربت، شعور کی کمی اور سماجی پابندیوں کی وجہ سے اس ظلم کا شکار ہو رہی ہیں۔

ان کارکنوں کے مطابق بہت سے خاندان معاشی مشکلات یا روایتی سوچ کے تحت لڑکیوں کو ان کی رضامندی کے بغیر شادی پر مجبور کرتے ہیں۔

بعض سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے تسلسل سے لڑکیوں کی ذہنی صحت اور مستقبل پر نہایت سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں ڈپریشن، گھریلو تشدد اور تعلیم سے محرومی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ان ماہرین نے زور دیا کہ جبری شادیوں کی روک تھام کے لئے وسیع پیمانے پر آگاہی، سماجی حمایت اور خواتین و لڑکیوں کے تحفظ کے قوانین کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔

اسی طرح سماجی کارکنوں نے بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے افغانستان کی لڑکیوں کی حالتِ زار پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس بحران پر خاموشی کا سلسلہ جاری رہا تو ایک پوری نسل کی زندگی شدید خطرات سے دوچار ہو جائے گی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button