آبنائے ہرمز میں سائبر دھوکہ دہی کا بڑھتا ہوا خطرہ، فوجی کشیدگی کے باعث بحری سرگرمیاں متاثر
آبنائے ہرمز میں سائبر دھوکہ دہی کا بڑھتا ہوا خطرہ، فوجی کشیدگی کے باعث بحری سرگرمیاں متاثر
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت پیچیدہ صورتحال اختیار کر گئی ہے۔
عالمی تجارت کے لئے نہایت اہم اس گزرگاہ میں اس وقت سینکڑوں جہاز اور ہزاروں ملاح غیر یقینی حالات کے باعث انتظار کی کیفیت میں ہیں۔
ذرائع کے مطابق کئی شپنگ کمپنیوں کو مشکوک اور جعلی پیغامات موصول ہو رہے ہیں، جن میں محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کے بدلے رقم طلب کی جا رہی ہے۔
ان پیغامات میں خود کو ایرانی سرکاری اداروں سے وابستہ ظاہر کیا جاتا ہے، تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ان کا کسی بھی سرکاری ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایک یونانی میری ٹائم رسک مینجمنٹ کمپنی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ پیغامات منظم سائبر دھوکہ دہی کا حصہ ہیں، جن کا مقصد موجودہ کشیدہ حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شپنگ کمپنیوں سے مالی فائدہ حاصل کرنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ان پیغامات میں کمپنیوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے کے بعد بٹ کوائن یا ٹیتر کے ذریعے ادائیگی کریں، جس کے بدلے انہیں آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔
دوسری جانب، بعض جہازوں پر فائرنگ کے واقعات اور بحری راستوں پر عائد پابندیوں نے سکیورٹی خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور توانائی کی ترسیل کا ایک مرکزی راستہ ہے۔
متعلقہ حکام نے شپنگ کمپنیوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ ایسے جعلی پیغامات پر ہرگز یقین نہ کریں اور کسی بھی قسم کی ادائیگی سے قبل مستند سرکاری ذرائع سے تصدیق ضرور کریں، تاکہ سائبر جرائم پیشہ عناصر کے جال میں پھنسنے سے بچا جا سکے۔




