
مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں نے عالمی غذائی منڈی کو قیمتوں میں ایک نئی لہر کا سامنا کروا دیا ہے، جس سے دنیا بھر میں غذائی تحفظ کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ہمارے نمائندے نے اس حوالے سے ایک رپورٹ تیار کی ہے، آئیے مل کر دیکھتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ پیش رفت، خصوصاً جنگ اور توانائی کی اہم گزرگاہوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، نے عالمی غذائی منڈی پر براہِ راست اثر ڈالا ہے۔
توانائی کے اخراجات اور زرعی وسائل، خاص طور پر کیمیائی کھادوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کئی ممالک میں غذائی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے صارفین اور کاشتکار دونوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مہینے میں غذائی قیمتوں کے اشاریے میں فروری کے مقابلے میں 2.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
رووداو کی رپورٹ کے مطابق فائو کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قیمتوں میں مسلسل دوسرا اضافہ ہے، جس کی بنیادی وجہ علاقائی جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
اس ادارہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں کیمیائی کھادوں کی قیمتوں میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب خبر رساں ایجنسی اناطولی کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں خلل کے باعث تیل کی قیمت تقریباً 70 تا 80 ڈالر سے بڑھ کر 110 ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہے، جس سے ایندھن اور نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اسی طرح عالمی منڈی میں یوریا کھاد کی قیمت 480 ڈالر سے بڑھ کر 750 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو کاشتکاروں پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے۔
ادھر کچھ ممالک نے اس بحران کے اثرات کم کرنے کے لیے زرعی شعبے کے لئے امدادی پیکجز کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یورپی حکومتیں ایندھن پر سبسڈی، مالی سہولیات اور کھاد کی خریداری میں معاونت فراہم کر کے پیداواری لاگت میں اضافے کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں استحکام اور آبنائے ہرمز میں تجارت کی معمول کی بحالی کے بغیر یہ اقدامات صرف عارضی ثابت ہوں گے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو کاشتکار زیرِ کاشت رقبہ کم کرنے یا فصلوں کی نوعیت تبدیل کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر مستقبل میں غذائی رسد پر پڑے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بحران برقرار رہا تو غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ مستقل صورت اختیار کر سکتا ہے اور اس کے اثرات دنیا بھر کے عوام کی روزمرہ زندگی پر واضح طور پر محسوس ہوں گے۔




