
شام میں ایک سرکاری ملازم کی اوسط تنخواہ تقریباً عام استعمال کے کم سے کم بجلی کے بل کے برابر ہو چکی ہے، اور بہت سے خاندان روشنی اور گرم پانی کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
الاخبار کی رپورٹ کے مطابق سبسڈی کے خاتمہ کے بعد ٹیرف میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث بجلی کے بل تنخواہ کا تقریباً 80 فیصد تک کھا جاتے ہیں اور خاندان سخت کفایت شعاری پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ بجلی کے نظام میں 30 فیصد تک ضیاع اور ایران سے ایندھن کی فراہمی میں تعطل نے عوام پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
کچھ خاندانوں نے شمسی توانائی کا رخ بھی کیا ہے، تاہم مالی معاونت کے بغیر اس کی تنصیب کرنا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔



