یمن کے صوبہ مأرب میں امریکی ڈرون حملہ؛ القاعدہ کا ایک اہم سینئر کمانڈر ہلاک

یمن کے صوبہ مأرب میں امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں القاعدہ سے وابستہ شدت پسند سنی گروہ کے ایک نمایاں سیکیورٹی کمانڈر ادریس المصری اور اس کا ایک ساتھی ہلاک ہو گیا۔
یہ کارروائی وادی عبیدہ ضلع کے علاقہ الصمدہ میں انجام دی گئی۔ یہ حملہ چند روز قبل ایک اور کمانڈر، جو خولان الصنعانی کے فرضی نام سے جانا جاتا تھا، کی ہلاکت کے بعد کیا گیا، جو یمن میں القاعدہ کے سرکردہ عناصر کے خلاف امریکی فضائی حملوں میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
اسپوتنک کی رپورٹ کے مطابق یہ ڈرون حملہ اس وقت کیا گیا جب امریکی ڈرونز نے 48 گھنٹوں تک علاقہ میں وسیع پیمانے پر پروازیں کیں، اور اس آپریشن کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی بتایا گیا ہے۔
ادھر الجزیرہ نے رپورٹ کیا ہے کہ نشانہ بننے والا شخص القاعدہ کے سیکیورٹی نظام سے وابستہ ایک اعلیٰ عہدیدار کا بیٹا تھا، اور اس کی ہلاکت کو شمال مشرقی یمن میں اس گروہ کے سیکیورٹی ڈھانچے کے لئے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں یمن اور خلیجی خطے میں القاعدہ کے خطرات کو کم کرنے کے لئے جاری بین الاقوامی کوششوں کا حصہ ہیں۔




