
مغربی سڈنی کے علاقے لاکمبا میں واقع ایک مسجد کو موصول ہونے والے دھمکی آمیز خط کے بعد مقامی مسلم برادری کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
چار صفحات پر مشتمل اس خط میں یومِ آسٹریلیا کے موقع پر مسلمانوں، آسٹریلیا کے مقامی باشندوں (ابوریجنلز) اور لیبر و گرین پارٹیوں کے حامیوں کے خلاف تشدد پر اکسانے والے مواد شامل ہیں، جس کے باعث شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
آسٹریلوی پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے خصوصی یونٹس اس خط کے مصنف کی شناخت اور سراغ لگانے میں مصروف ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے معاشرے کو محفوظ رکھا جا سکے۔
خبر رساں ادارے نائن نیوز (Nine News) کے مطابق، یہ خط اس وقت فرانزک ماہرین کے زیرِ تجزیہ ہے اور تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
آسٹریلیا میں لبنانی مسلمانوں کی تنظیم کے سکریٹری گامل خیر نے اس اقدام کو “انتقام کی کھلی اپیل اور نفرت پھیلانے کی کوشش” قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
سڈنی پولیس نے سیکیورٹی کے پیش نظر 1500 اضافی اہلکار تعینات کر دیے ہیں، جو شہری علاقوں اور بندرگاہوں میں گشت کر رہے ہیں۔
نیو ساوتھ ویلز کے وزیرِ اعلیٰ کرس مینس نے اس موقع پر کہا کہ صورتحال قابو میں ہے، معاشرہ محفوظ ہے اور شہریوں کے تحفظ کے لئے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔




