یوم ولادت حضرت عباس علیہ السلام

نظام کائنات کے مطابق چار شعبان کو آسمانِ دنیا پر چوتھی کا چاند چمکا لیکن آسمان وفا پر چودھویں کا چاند نمودار ہوا۔ لہذا چار شعبان کی شب کوئی عام شب نہ رہی۔ بلکہ یہ وہ مقدس شب تھی جب لوحِ ازل پر وفا کا ایک نیا باب رقم ہوا، جب عالمِ ملک و ملکوت کے درمیان ایک ایسا وجود نازل ہوا جو بعد میں عبودیت کی معراج اور ولایت کی کامل تصویر بن کر ابھرا۔ یہ حضرت عباس علیہ السلام کی ولادتِ باسعادت تھی—ایک ایسا نور جو ظاہراً بنی ہاشم کے گھر میں اترا، مگر حقیقتاً قلبِ حسین علیہ السلام کی حفاظت کے لئے خلق ہوا تھا۔
حضرت عباس علیہ السلام کی ولادت، صرف ولادتِ جسم نہیں بلکہ ظہورِ مقصد تھی۔ وہ اس دنیا میں رہنے کے لئے نہیں آئے تھے بلکہ کربلا میں اپنے آقا حسین علیہ السلام پر قربان ہونے کے لئے آئے تھے۔ ان کا وجود ابتدا ہی سے نیتِ شہادت، رازِ وفا اور سرِّ اطاعت کے ساتھ تشکیل پایا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت اُمّ البنین سلام اللہ علیہا نے آپ کو بیٹا نہیں بلکہ مولا حسین علیہ السلام کی امانت سمجھ کر پالا تھا۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے جب اس نومولود کو آغوش میں لیا تو صرف باپ کی نگاہ نہ تھی، بلکہ ولیِ کامل کی بصیرت بول رہی تھی۔ انہوں نے بازوؤں کو دیکھا تو گریہ کیا—کیونکہ یہ بازو فقط جسمانی اعضا نہ تھے، یہ پرچم حسینی کو تھامنے والے ستون تھے، جو کربلا میں کٹ تو جائیں گے مگر جھکیں گے نہیں۔
حضرت عباس علیہ السلام نے کسی عام استاد سے کسب فیض نہیں کیا بلکہ اس معلم الہی اور ولی باری کے سامنے شرف تلمذ حاصل کیا جس کے سامنے امین وحی سید الملائکہ جبرئیل امین علیہ السلام نے زانوئے ادب تہ کئے۔ لہذا جس طرح استاد نے اپنی ہستی کو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان کیا اسی طرح شاگرد نے اپنی ہستی کو اپنے امام وقت پر قربان کیا۔ ان کی معرفت کا مرکز ذات نہیں بلکہ امامِ وقت تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی زبان پر کبھی “میں” نہیں آیا، ہمیشہ "مولا” کا ذکر رہا۔ ان کا نفس، نفسِ مطمئنہ کا عکس کامل بن گیا—ایسا نفس جو اپنی خواہش کو امام کی رضا پر قربان کر دے۔
حضرت عباس علیہ السلام فنا فی الامام کے اس مقام پر فائز تھے جہاں بندہ خود کو نہیں دیکھتا، صرف حجتِ خدا کو دیکھتا ہے۔ یہی فنا انہیں فرات کے کنارے لے گئی—جہاں پانی موجود تھا، مگر نفس غائب تھا۔ پیاس تھی، مگر “میں” نہ تھا۔ ہاتھ میں آبِ فرات تھا، مگر دل میں مولا حسین علیہ السّلام کی تشنگی موجزن تھی۔ اس لئے آپ نے دریا سے حصول آب نہیں کیا بلکہ تشنگی حاصل کی۔
فرات کے کنارے حضرت عباس علیہ السلام نے پانی نہیں چھوڑا، بلکہ اپنی خواہش چھوڑ دی—اور یہی معرفت امام کی منزل کمال ہے۔ کیونکہ معرفت کرامت دکھانے کا نام نہیں بلکہ قدرت ہونے کے باوجود ترک کر دینا ہے۔
حضرت عباس علیہ السلام اگرچہ امام نہیں تھے، مگر امام کے آئینہ بن گئے۔ وہ چودہ معصومین علیہم السلام میں شامل نہیں تھے، مگر عصمت کبری کے رنگ میں ایسا رنگے کہ عقل بشری حیران ہے کہ انہیں کیا کہے؟
اللہ نے انہیں وہ مقام دیا جو بہت سے شہداء کو بھی نصیب نہ ہوا—باب الحوائج۔ کیونکہ جو بندہ خود کو مکمل طور پر خدا کی حجت کے سپرد کر دے، خدا اسے بندوں کا حاجت روا بنا دیتا ہے۔
آج بھی اگر کوئی ٹوٹا ہوا دل، کوئی گناہوں میں ڈوبا ہوا انسان، کوئی بے سہارا روح، درِ عباس علیہ السلام پر آ جائے تو خالی نہیں لوٹتا—اس لئے نہیں کہ عباس علیہ السلام نے کچھ مانگا تھا بلکہ اس لئے کہ عباس علیہ السلام نے سب کچھ دے دیا تھا۔
حضرت عباس علیہ السلام کی شخصیت اور سیرت درس دیتی ہے کہ ولایت کے بغیر عبادت، رسم ہے۔ اطاعت کے بغیر شجاعت، فتنہ ہے اور فنا کے بغیر معرفت محض دعویٰ ہے۔
حضرت عباس علیہ السلام نے امام وقت کی اطاعت محض کا وہ عملی نمونہ پیش کیا کہ جو رہتی دنیا تک ہر مسلمان مومن ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے کہ اگر سچے مسلمان اور سچے مومن ہو تو "انا” کیسی؟، "میرا دل نہیں مانتا” کیوں؟، "میں تو یہ سمجھتا ہوں” کیسے؟
اگر سچے مسلمان اور مومن ہو تو دین و شریعت کے سامنے سر تسلیم خم ہو جاؤ، اگر حقیقی مولائی ہو تو خود کا پرچار نہیں بلکہ معارف دین کی تبلیغ کرو، اگر حقیقت میں دین و مذہب کا درد رکھتے ہو تو تمہاری زبان و قلم خود کو نہیں بلکہ دین و مذہب کو پیش کرے، خود کو شیئر نہ کرو بلکہ دین کی نشر و اشاعت کرو۔ ریاکاری اور دکھاوے سے دور رہو نیت و عمل میں اخلاص لاؤ۔
سلام ہو اس ولادت پر
جو وفا کی تفسیر بن گئی
سلام ہو اس وجود پر
جو حسین علیہ السلام پر قربان ہو کر ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گیا۔




