
فرانس میں حقوقی اور ذرائع ابلاغ کی رپورٹس اور تجزیات مسلمانوں کی نگرانی، کنٹرول اور ان کے کوائف کے اندراج میں اضافے کی خبر دے رہے ہیں۔
اس عمل کے تحت تقریباً 3000 مساجد اور 1500 ایسے محلّوں کے بارے میں معلومات جمع کی جا رہی ہیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، جس نے سنگین قانونی اور سماجی خدشات کو جنم دیا ہے۔
العربی الجدید کی رپورٹ کے مطابق، اس اقدام پر انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، جنہوں نے اسے مذہب اور قومیت کی بنیاد پر اجتماعی امتیاز کے شبہہ کے ساتھ ایک خطرناک عمل قرار دیا ہے۔
روزنامہ لوموند کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ فرانس میں مقیم مسلمان شہریوں کا کہنا ہے کہ اس نوع کی نگرانی ان کی روزمرہ زندگی میں سخت کنٹرول اور بے اعتمادی کے احساس کو بڑھا رہی ہے اور ایک تشویشناک فضا پیدا کر رہی ہے۔
فرانس 24 کے مطابق، قانونی کارکنوں نے زور دیا ہے کہ ایسے اقدامات کا تسلسل اسلاموفوبیا کے فروغ اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سبب بن سکتا ہے، اور انہوں نے ان سرگرمیوں کو روکنے کے لئے عدالتی اداروں کی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان کا جاری رہنا مسلم معاشروں میں عدمِ تحفظ اور بے اعتمادی کے احساس کو مزید گہرا کر سکتا ہے، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدل و انصاف اور شہری حقوق کے تحفظ کے لئے سخت عدالتی اور قانونی نگرانی ناگزیر ہے۔




