
طالبان نے افغانستان کی سرکاری اداروں میں کام کرنے والی ان خواتین کی تنخواہوں کی ادائیگی روک دی ہے جنہیں غیر رسمی طور پر گھروں تک محدود کر دیا گیا تھا۔
آمو کی رپورٹ کے مطابق، 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد ان خواتین کو ہفتہ میں ایک بار یا مہینے میں ایک بار دفتر آنے اور محدود تنخواہ لینے کی اجازت دی جاتی تھی، تاہم اب یہ ادائیگی بھی مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔
ان خواتین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے ان کے خاندانوں کے روزگار اور معاشی حالات پر فوری اور سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔




