
امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) نے آئندہ ایک ماہ کے لئے اعلیٰ سطح کی اور 24 گھنٹے کی الرٹ حالت کا اعلان کیا ہے، جبکہ طیارہ بردار بحری جہاز "ابراہیم لنکن” کو اسکارٹ بحری جہازوں کے ہمراہ مشرقِ وسطیٰ روانہ کر دیا گیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، یہ بحری جہاز ہزاروں فوجیوں اور درجنوں جنگی طیاروں کے ساتھ آئندہ ہفتہ کے دوران خطہ میں پہنچے گا، جس کا مقصد امریکی فوجی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
ڈوئچے ویلے کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام نے بتایا کہ یہ اقدام علاقائی خطرات کے جائزے اور ایران کی جانب سے امریکہ کو سزائے موت کی معطلی سے متعلق پیغام کے بعد کیا گیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ لکھتا ہے کہ ایران کے اس پیغام کے باعث ٹرمپ نے براہِ راست فوجی کارروائی کے آپشن سے پسپائی اختیار کی اور وائٹ ہاؤس میں مذاکرات کا لہجہ زیادہ محتاط ہو گیا۔
ادھر پولیٹیکو کے مطابق، ٹرمپ نے ایران میں نئی قیادت کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اس ملک کا انتظام عوام کے احترام کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ خوف اور جبر کے ذریعہ۔




