27 رجب؛ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی بعثت کا دن اور اسلام کی عالمی رسالت کا آغاز

27 رجب انسانی تاریخ کا ایک عظیم دن اور تاریخِ اسلام کا اہم سنگِ میل ہے۔ اسی دن رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ غارِ حرا میں مبعوث بہ رسالت ہوئے اور انسانیت کی ہدایت کے لئے الٰہی رسالت کا آغاز ہوا۔
مسلمان اس دن کو دعا، نماز اور دیگر مستحب اعمال کے ذریعہ عقیدت و احترام کے ساتھ مناتے ہیں اور اسے ایک عظیم الٰہی نعمت اور دنیا کے لئے باعثِ برکت سمجھتے ہیں۔
اس حوالے سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیے
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی بعثت کا دن تاریخِ اسلام اور مسلمانوں کی ثقافت میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
بعثت کا مطلب ہے اللہ کی جانب سے انبیاء کو انسانوں کی ہدایت کے لئے مبعوث کرنا۔ قرآنِ کریم میں اس عظیم واقعے کو "منت” قرار دیا گیا ہے، یعنی انسانیت پر ایک بہت بڑی اور قیمتی نعمت ہے۔
اسلامی مصادر کے مطابق، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ 27 رجب، عامُ الفیل کے چالیسویں سال (609ء) میں، تقریباً چالیس برس کی عمر میں، غارِ حرا میں غور و فکر اور عبادت میں مشغول تھے کہ سورۂ علق کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔
حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور پہلا الٰہی حکم «اقْرَأْ» آپ تک پہنچایا؛ یہ حکم تعلیم، ہدایت اور انسانی بیداری کی دعوت تھا۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
اس خدا کا نام لے کر پڑھو جس نے پیدا کیا ہے۔ اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے۔ پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی ہے۔ اور انسان کو وہ سب کچھ بتادیا ہے جو اسے نہیں معلوم تھا
وحی کے نزول کے بعد رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے بعثت کا واقعہ سب سے پہلے اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا اور اپنے چچا زاد بھائی حضرت علی علیہ السلام سے بیان فرمایا۔
ان تین عظیم ہستیوں نے اپنی جان، مال اور پوری ہستی کے ساتھ اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ ابتدائی برسوں میں دعوت پہلے قریبی رشتہ داروں اور پھر مکہ کے عام لوگوں تک پہنچائی گئی۔
تاریخی روایات کے مطابق، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے قریش کی دھمکیوں اور شدید مخالفت کے باوجود صبر و استقامت کے ساتھ اپنی رسالت کو جاری رکھا۔ مدینہ کی طرف ہجرت اور اسلامی معاشرے کے قیام کے بعد، دینِ اسلام بتدریج پوری دنیا میں پھیلتا چلا گیا۔
یومِ مبعث مسلمانوں کے لئے صرف بعثت کی یاد نہیں بلکہ دعا، نماز، غسل اور دیگر مستحب اعمال کے ذریعہ ایمان کی تجدید اور الٰہی ہدایت سے وابستگی کا موقع بھی ہے۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی بعثت تمام انسانوں کے لئے رحمت، ہدایت اور بیداری کی علامت ہے، اور اس دن کی تعظیم اخلاق، عدل اور ایمان کی اہمیت کی یاد دہانی کراتی ہے۔




