
روس کے دارالحکومت ماسکو میں غیر معمولی برفباری کے باعث پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ماسکو شدید سردی کی لپیٹ میں ہے جہاں کئی فٹ برفباری ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ روس کے دارالحکومت میں رواں ماہ ایک سو چھیالیس سالہ ریکارڈ کی پانچویں سخت برفباری ہوئی اور ویک اینڈ پر ایک ملین کیوبک میٹرز برف صاف کی گئی۔
رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ شدید سردی کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے نظام کے ساتھ ساتھ شہریوں کو دیگر معمولات زندگی میں بھی دشواری کا سامنا ہے، ماسکو میں آج درجہ حرارت منفی چھ ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ مزید برفباری کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑیاں تقریباً مکمل طور پر برف میں ڈوبی ہوئی ہیں، گھروں کے داخلے برف کے بلند و بالا تودوں سے بند ہو چکے ہیں اور مکین اپنے گھروں سے نکلنے کیلیے برف میں سرنگیں کھودنے پر مجبور ہیں۔
ماہرین موسمیات نے غیر معمولی حالات کی وجہ بحر الکاہل کے اوپر پیدا ہونے والے بار بار کے سائیکلونک سسٹمز کو قرار دیا ہے۔ یہ نظام نمی کی ایک بڑی مقدار کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے جو کامچاٹکا کی منجمد ہوا اور ناہموار علاقے سے ٹکراتے ہی شدید برفباری میں بدل جاتی ہے۔
خطے کا جغرافیہ بھی مسلسل ہونے والی اس برفباری کی ایک بڑی وجہ ہے۔
کامچاٹکا بحر الکاہل اور بحیرہ اوخوتسک کے درمیان واقع ہے اور اس جزیرہ نما کے پہاڑی سلسلے نم آلود ہوا کو تیزی سے بلندی کی طرف دھکیلتے ہیں جس سے برفباری کی شدت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔




