
لکھنو۔ شاہی آصفی مسجد میں 28 نومبر 2025 کو نماز جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی صاحب قبلہ پرنسپل حوزہ علمیہ غفرانمآب رحمۃ اللہ علیہ لکھنو کی اقتدا میں ادا کی گئی۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے نمازیوں کو تقوی الہی کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں توفیق دے کہ ہمیشہ اس سے ڈرتے رہیں، اس کا خوف ہمارے دلوں میں رہے، یہ احساس پایا جاتا رہے ایک دن مر کر اس کی بارگاہ میں جانا ہے اور اس کو جواب دینا ہے۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے مزید فرمایا: لوگ سوچتے نہیں ہیں، دنیا میں اتنا گرفتار ہو جاتے ہیں کہ انہیں احساس نہیں ہوتا کہ ہمیں کسی کو جواب دینا ہے۔ دوسروں کا مال ہڑپ کر لیتے ہیں، غاصب بن جاتے ہیں اور (کمال تعجب یہ ہے کہ) غاصب بن کر ایام عزائے فاطمی میں زور سے گریہ بھی کرتے ہیں اور اہل بیت علیہم السلام کے دشمنوں اور ان کے حق کے غاصبوں پر لعنت بھی کرتے ہیں۔
حدیث قدسی "لوگوں کو ڈرائیے کہ وہ شخص میرے گھر میں داخل نہ ہو جس نے ظلم کرتے ہوئے کسی کا مال غصب کیا ہے۔ میں اس پر اس وقت تک لعنت کرتا رہتا ہوں جب تک وہ نماز پڑھتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ لوٹا ہوا غصبی مال واپس نہ کر دے۔” کو بیان کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا: کوئی بھائی کا حق غصب کئے ہے تو کوئی چچا کا حق غصب کئے ہے تو کوئی کسی اور کا اور حد تو یہ ہے کہ کسی نے امام حسین علیہ السلام کا مال (وقف) غصب کر لیا ہے. اور کان پکڑ کر منہ پیٹ رہے ہیں تو یہ توبہ نہیں ہے توبہ اس وقت ہے جب انسان غصب کیا ہوا مال واپس کر دے۔
امیر المومنین امام علی علیہ السلام کی فضیلت بیان کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا: اگر کوئی حقیقی توبہ کر لے تو وہ اس قدر بلند ہوتا ہے کہ اس کا شمار شہداء اور صدیقین میں ہونے لگتا ہے۔ تو جب توبہ کرنے والے کو یہ مقام حاصل ہوتا ہے تو جس کی پوری زندگی میں عدل ہو اس کی کیا عظیم فضیلت ہوگی۔ جو یہ کہے کہ اگر علی کو پوری کائنات کی حکومت دے دی جائے اور یہ مطالبہ کیا جائے کہ چیونٹی کے منھ سے جَو کا چھوٹا سا ٹکڑا لے لیا جائے تو علی حکومت کو ٹھکرا دے گا چیونٹی پر ظلم نہیں کرے گا۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا: ان ایام عزائے فاطمی سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ اگر کسی نے کسی کا مال غصب کیا ہے، لوٹا ہے تو واپس کر دے، چاہے کسی کی میراث ہو یا کوئی اور مال ہو۔ اور اگر کسی نے امام حسین علیہ السلام کا مال لوٹا ہے تو یاد رکھیں کہ کوئی اہل بیت علیہم السلام کا مال ہضم نہیں کر پائے گا۔ بھگت جائے گا۔ کتنے ہیں جو بھگت رہے ہیں۔
اسراف کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا: 3 چُلّو سے وضو ہو جاتا ہے، نل کھول کر پانی بہانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کوئی یہ نہ کہے کہ ہم بل ادا کر دیں گے۔ ایک شریف شہری ہونے کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔
نظافت کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا: ادھر ادھر کوڑا نہیں پھینکنا چاہیے اور نہ ہی ادھر ادھر تھوکنا چاہیے، یہ کام کوئی اور قوم کرے تو کرے لیکن جو صبح شام آیت تطہیر کی تلاوت کرتی ہو اس کے لئے بالکل مناسب نہیں ہے۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے مزید فرمایا: کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ جس شہر میں رہتے ہیں اسی کی برائی کرتے ہیں، جبکہ امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے فرمایا: "بہترین شہر وہ ہے جو تمہارے بوجھ کو اٹھائے ہوئے ہے۔” اگر لکھنو ہمارا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے تو لکھنو سے بہتر کوئی شہر ہمارے لئے نہیں ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایک شریف شہری بنیں۔




