منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لئے ایران سے عراق میں گوشت اور دودھ کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی

عراق نے شلمچہ سرحدی گذرگاہ کے ذریعہ منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کے لئے ایران سے سفید اور سرخ گوشت اور دودھ کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ فیصلہ بارڈر کنٹرول کو بڑھا کر اور اسکیننگ ڈیوائسز کا استعمال کرتے ہوئے نافذ کیا جا رہا ہے۔
اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی رپورٹر کی رپورٹ پر توجہ دیں۔
عراقی سرحدی کسٹم حکام نے بتایا کہ بصرہ صوبہ میں شلمچہ سرحدی گذرگاہ کے ذریعہ ایران سے اس ملک میں سفید اور سرخ گوشت اور دودھ کی مصنوعات کی درآمد ممنوع ہے۔
کردستان 24 کے مطابق یہ فیصلہ درآمدی سامان کے ذریعہ منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لئے کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق اس پابندی میں ہر قسم کی مچھلی، گوشت، چکن، کھجور اور دودھ کی مصنوعات شامل ہیں، جنہیں خاص طور پر عراقی شہری خرید کر ملک لائے ہیں۔
عراقی بارڈر کسٹمز کے ترجمان علاء قیس نے بتایا کہ یہ کاروائی منشیات کی اسمگلنگ کے کئی کیسز سامنے آنے کے بعد کی گئی۔
ان کے بقول اس پابندی کی ایک بڑی وجہ شلمچہ بارڈر پر اسکیننگ ڈیوائسز کا استعمال تھا تاکہ درآمدی سامان اور آلات میں چھپائی گئی منشیات کی نشاندہی کی جا سکے۔
انہوں نے ایک غیر ملکی سیاح کی گرفتاری کا بھی ذکر کیا جو ایران سے 2500 گرام کرسٹل منشیات عراق منتقل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران کے خلاف امریکی پابندیوں نے ملک کی بجلی اور گیس کی برآمدات کو شدید متاثر کیا ہے۔
ایران کی معیشت کو نقصان پہنچانے کے علاوہ یہ پابندیاں عراق سمیت ہمسایہ ممالک پر دباؤ ڈالتی ہیں اور دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کو متاثر کرتی ہیں۔
تاہم ایران سے بعض مصنوعات کی درآمد پر پابندی عراق کے سیکورٹی چیلنجز اور منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے کی کوششوں کو ظاہر کرتی ہے۔