ایشیاءخبریںہندوستان

اتراکھنڈ میں مدارس کے خلاف کارروائی، جمعیۃ علماء ہند سپریم کورٹ پہنچ گئی

اتراکھنڈ حکومت نے قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال (این سی پی سی آر) کی سفارشات کی بنیاد پر مدارس کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے، جس کے تحت کئی مدارس کو زبردستی بند کر دیا گیا۔ اس اقدام کے خلاف جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کر دی ہے، جس کی سماعت 25 مارچ کو متوقع ہے۔

این سی پی سی آر نے مرکز اور ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی تھی کہ جو مدارس حق تعلیم ایکٹ 2009 کے دائرے میں نہیں آتے، انہیں بند کر دیا جائے۔ کمیشن کا موقف ہے کہ مدارس میں بچوں کو معیاری تعلیم، صحت مند ماحول اور ترقی کے مواقع فراہم نہیں کیے جا رہے، جو ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

اترپردیش میں بھی اسی بنیاد پر مدارس کو نوٹس جاری کیے گئے تھے، جس کے بعد جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی تھی۔ 4 اکتوبر 2024 کو دائر کردہ اس عرضی پر سپریم کورٹ نے کارروائی روکتے ہوئے حکم دیا تھا کہ جب تک عدالت کی جانب سے کوئی نیا فیصلہ نہیں آتا، حکومت کسی مدرسے کے خلاف مزید کارروائی نہیں کر سکتی۔

جمعیۃ علماء ہند نے اتراکھنڈ میں ہونے والی نئی کارروائی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے 24 مارچ کو سپریم کورٹ میں نئی عرضی دائر کی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ یکم مارچ 2025 سے حکومتی افسران مدارس پر چھاپے مار رہے ہیں اور زبانی احکامات کے تحت انہیں بند کر رہے ہیں۔ مدارس کا مؤقف ہے کہ وہ غیر امدادی اقلیتی تعلیمی ادارے ہیں اور ان پر حکومت کی مداخلت غیر قانونی ہے۔

عرضی میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر مدارس کو دوبارہ کھولنے اور حکومتی افسران کو مزید مداخلت سے باز رکھنے کا حکم جاری کرے، کیونکہ یہ عمل سپریم کورٹ کے 21 اکتوبر 2024 کے فیصلے کی خلاف ورزی اور توہین عدالت کے مترادف ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button