امریکہخبریںدنیا

یو ایس ایڈ کی معطلی؛ دنیا کے لئے امریکی امداد کا 60 سال کا خاتمہ

وفاقی جج کی منظوری کے بعد ٹرمپ حکومت نے یونائٹڈ اسٹیٹس آرگنائزیشن فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں وہ 1600 ملازمین کو برطرف اور دنیا بھر میں اپنے دفاتر بند کر دے گی۔

ایلون مسک کے تعاون سے کی گئی اس کاروائی نے امریکی بین الاقوامی امداد کے مستقبل کے بارے میں بہت سے خدشات کو جنم دیا ہے۔

اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی رپورٹر کی رپورٹ پر توجہ دیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے وفاقی حکومت کے حجم میں کمی کے حالیہ فیصلے کے بعد 60 سال سے زائد عرصہ سے دنیا بھر میں انسانی امداد فراہم کرنے والی یو ایس ایڈ بند ہو رہی ہے۔

اس اقدام میں 1600 ملازمین کی برطرفی اور امدادی پروگرامز کی معطلی شامل ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ٹرمپ کے امریکہ فرسٹ کے نعرے کو پورا کرنا اور ٹیکس کے اخراجات کو کم کرنا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ اور اس کے اتحادی جیسے ایلون مسک جو اس منصوبہ میں بطور حکومتی مشیر شامل ہیں، کا خیال ہے کہ یو ایس ایڈ کی سرگرمیاں امریکی مالی وسائل کا ضیاع ہیں۔

اپنی پوری تاریخ میں یو ایس ایڈ نے دنیا بھر کے بہت سے ممالک کو قیمتی امداد فراہم کی ہے، بشمول ادویات، خوراک اور طبی آلات۔

تاہم ٹرمپ اور ری پبلیکنس کے اس ادارے کو بند کرنے کے حالیہ فیصلے سے امریکہ کی بین الاقوامی اور ملکی سطح پر کئی رد عمل سامنے آئے ہیں۔

ڈیموکریٹس اور بعض ماہرین نے اس فیصلہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ یو ایس ایڈ کو ختم کرنے سے امریکہ کی بین الاقوامی ساکھ کمزور پڑ سکتی ہے اور ضرورت مند ممالک کی اہم امداد میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button