طالبان حکومت خواتین کی ملازمت پر پابندی کا فیصلہ واپس لے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ این جی اوز میں کام کرنے والی افغان خواتین پر عائد پابندی کا فیصلہ واپس لے۔
ان کا کہنا ہے کہ طالبان کا حالیہ حکم نامہ، جس کے تحت افغان خواتین کو ملازمت دینے والی غیر سرکاری تنظیموں کے لائسنس منسوخ کیے جا سکتے ہیں، بالکل غلط فیصلہ ہے۔ یہ پابندی انسانی امداد فراہم کرنے کے عمل کو متاثر کرے گی، کیونکہ این جی اوز افغانستان کے عوام کی زندگی بچانے کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
وولکر ترک نے کہا کہ افغانستان میں پہلے ہی انسانی صورتحال بہت خراب ہے، جہاں آدھی سے زیادہ آبادی غربت میں زندگی گزار رہی ہے۔ خواتین کو عوامی زندگی سے نکالنے کے اقدامات، جیسے تعلیم پر پابندی، ملازمت کے مواقع ختم کرنا، اور عوامی مقامات تک رسائی روکنا، افغانستان کے لیے نقصان دہ ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ طالبان حکومت کو یہ امتیازی حکم نامے اور دیگر سخت قوانین ختم کرنے ہوں گے، کیونکہ کوئی بھی ملک اپنی نصف آبادی کو عوامی زندگی سے نکال کر ترقی نہیں کر سکتا۔
یاد رہے کہ طالبان نے اگست 2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد خواتین کی تعلیم، ملازمت، اور عوامی مقامات پر جانے پر مختلف پابندیاں لگائیں۔ دسمبر 2022 میں لڑکیوں کی پرائمری کے بعد تعلیم پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی، اور کئی عوامی مقامات خواتین کے لیے بند کر دیے گئے تھے۔
طالبان کا دعویٰ ہے کہ وہ اسلامی قوانین کے مطابق مردوں اور عورتوں کے حقوق کی ضمانت دیتے ہیں، لیکن اقوام متحدہ اور دیگر ادارے ان اقدامات کو صنفی امتیاز اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے طالبان سے راستہ بدلنے اور خواتین کے حقوق کی بحالی پر زور دیا ہے۔