مینار گرا دیے گئے، تاریخ نہیں مٹائی جا سکی! 24 جمادی الاول 1435ھ کی مناسبت سے !!!

24 جمادی الاول 1435ھ، شام کے شہر رقہ میں ایک المناک واقعہ پیش آیا، جب سنی انتہا پسند داعش نے حضرت عمار بن یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اور حضرت اویس قرنی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ سے منسوب مزارات کے میناروں کو دھماکے سے تباہ کر دیا۔ یہ واقعہ محض تاریخی عمارتوں کی تخریب نہیں بلکہ اسلامی تہذیبی ورثے اور مذہبی آثار کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم سوال بھی ہے۔
حضرت عمار بن یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اسلامی تاریخ کی ان ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں سخت مصائب برداشت کیے۔ ان کے والد حضرت یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اور والدہ حضرت سمیہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہا نے بھی اسلام کی خاطر قربانیاں دیں۔ حضرت سمیہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہا کو اسلامی روایات میں اولین شہیدہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ حضرت عمار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی استقامت، وفاداری اور حق کے دفاع کی ایک نمایاں مثال ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث "تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ” بھی ان کی شخصیت کے حوالے سے اسلامی تاریخ میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔
حضرت اویس قرنی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا نام محبت رسولؐ اور اخلاص کے حوالے سے اسلامی روایت میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ روایات کے مطابق وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے زمانے میں ایمان لائے، لیکن بعض حالات کے باعث آپؐ کی زیارت نہ کر سکے۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی فضیلت اور روحانی مقام کا ذکر فرمایا۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ محبت رسول کا تعلق محض ظاہری قربت سے نہیں بلکہ اخلاص، وفاداری اور قلبی وابستگی سے بھی ہے۔
سنی داعش کی جانب سے ان مزارات کی تخریب مذہبی شدت پسندی کے اس رویے کی عکاسی کرتی ہے جس میں اختلافِ عقیدہ اور تاریخی آثار سے وابستگی کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ شام اور عراق میں اس تنظیم کی کارروائیوں کے دوران متعدد مذہبی اور تاریخی مقامات بھی تباہ ہوئے۔ اس طرز عمل نے مذہبی رواداری، تاریخی ورثے کے تحفظ اور مختلف اسلامی مکاتب فکر کے درمیان احترام کی ضرورت کو مزید نمایاں کیا۔
مقدس شخصیات کے مزارات اور ان کی زیارت کے بارے میں فقہی آرا میں اختلاف پایا جا سکتا ہے، لیکن علمی اختلاف کسی تاریخی یادگار کو تباہ کرنے یا دوسرے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ اختلاف کا جواب دلیل اور مکالمے سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ بارود اور تشدد سے۔
24 جمادی الاول کا یہ سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عمارتیں اور مینار انسانی ہاتھوں سے تعمیر ہوتے ہیں اور تشدد کے ذریعے منہدم بھی کئے جا سکتے ہیں، لیکن تاریخ کی عظیم شخصیات کا کردار اور ان کی قربانیوں کی معنویت کسی عمارت کی محتاج نہیں ہوتی۔
حضرت عمار بن یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی استقامت اور حضرت اویس قرنی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی محبت رسولؐ آج بھی مسلمانوں کے لئے اخلاقی اور روحانی رہنمائی کا سرمایہ ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل کو ان شخصیات کی سیرت سے روشناس کرایا جائے، تاریخی آثار کے تحفظ کو اجتماعی ذمہ داری سمجھا جائے اور اختلاف کے باوجود احترام و رواداری کی اسلامی روایت کو فروغ دیا جائے۔
میناروں کو گرایا جا سکتا ہے، مگر تاریخ کے روشن کرداروں کی یاد اور ان کے پیغام کو بارود سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔




