
عراق کی وفاقی حکومت نے آئین کے نفاذ اور اسلحے پر ریاست کی اجارہ داری قائم کرنے کے سلسلے میں سنجار مزاحمتی یونٹس (YBŞ) کو غیر مسلح کرنے، ان کے فوجی ٹھکانے حوالے کرنے اور انہیں ملک کے سکیورٹی اداروں میں باضابطہ طور پر ضم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
یہ اقدام غیر رسمی مسلح ڈھانچوں کی موجودگی ختم کرنے، کوہِ سنجار کی سکیورٹی مکمل طور پر وفاقی فوج کے سپرد کرنے اور بے گھر ایزدیوں کی اپنے وطن واپسی کی راہ ہموار کرنے کی جانب ایک کلیدی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے، آئیے ملاحظہ کرتے ہیں:
قومی خودمختاری کے استحکام سے متعلق عراقی مرکزی حکومت کی نئی حکمتِ عملی کے تحت کیے گئے فیصلوں کے مطابق سنجار پروٹیکشن یونٹس اور خواتین یونٹس کے آزادانہ فوجی تعلق کو ختم کرنے اور سکیورٹی ذمہ داریاں مکمل طور پر سرکاری اداروں کو منتقل کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
اس سلسلے میں سنجار کے پہاڑی علاقے کے تمام فوجی ٹھکانوں، ہتھیاروں اور اسٹریٹجک اڈوں کا کنٹرول وفاقی فوج اور سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا گیا، تاکہ عراقی آئین کی اس شق پر عمل درآمد کی جانب ایک بڑا قدم اٹھایا جا سکے جو سرکاری دائرے سے باہر مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو ممنوع قرار دیتی ہے۔
"عراقی سرکاری خبر رساں ایجنسی” (واع) کی رپورٹ کے مطابق عراقی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے ترجمان صباح النعمان نے اعلان کیا کہ ان یونٹس کے 4 ہزار 165 اہلکار باضابطہ طور پر ملک کے سکیورٹی نظام سے منسلک ہو چکے ہیں۔
انہوں نے دہشت گرد گروہوں اور شدت پسند سنیوں کے خلاف جدوجہد میں ایزدی برادری کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگلا مرحلہ جنگ سے نکل کر متاثرین کے نقصانات کے ازالے، بنیادی ڈھانچے کی تجدید اور قضائے سنجار کی تعمیرِ نو میں تیزی کا ہوگا۔
دریں اثنا، "خبر رساں ایجنسی اناطولیہ” (Anadolu Agency) نے رپورٹ دی کہ اس گروہ کے ٹھکانوں کا کنٹرول، جسے عراقی حکام پی کے کے سے وابستہ شاخ قرار دیتے ہیں، مکمل طور پر وفاقی فورسز کے حوالے کر دیا گیا ہے اور اس عمل میں تمام افرادی قوت اور فوجی سازوسامان شامل ہے۔
اسی طرح نینوا کے گورنر عبدالقادر الدخیل نے اسلحے پر ریاست کی اجارہ داری کو شہریوں کے لیے سلامتی اور باوقار زندگی کی بنیاد قرار دیا اور علاقے کی تعمیرِ نو اور پرامن بقائے باہمی کے استحکام کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیے جانے کی خبر دی۔
ان یونٹس کے ذمہ داروں نے بھی زور دے کر کہا کہ یہ فیصلہ عراقی سرزمین کی وحدت پر یقین اور قومی خودمختاری کے تحفظ کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
اس اسٹریٹجک معاہدے پر عمل درآمد کو نینوا کی مقامی حکومت اور متعلقہ اداروں کی مسلسل معاونت حاصل رہے گی تاکہ علاقے کے انتظامی اور سکیورٹی چیلنجوں کو زیادہ سے زیادہ بہتر طور پر حل کیا جا سکے۔
عراقی حکام کو امید ہے کہ سکیورٹی رکاوٹیں دور ہونے اور دفاعی ڈھانچے کے یکجا ہونے سے سنجار میں بین الاقوامی امداد کی ترسیل اور تعمیراتی منصوبوں کی رفتار میں اضافہ ہوگا۔




