دہلی میں مساجد اور تاریخی مقامات کی پے در پے مسماری؛ ہندوتوا کی اسلام دشمن پالیسیوں میں شدت
دہلی میں مساجد اور تاریخی مقامات کی پے در پے مسماری؛ ہندوتوا کی اسلام دشمن پالیسیوں میں شدت
نئی دہلی میں مسلمانوں کی مساجد اور تاریخی مقامات کو خالی کرنے اور ڈھانے کے لیے مختصر مدت کے ہدف بند نوٹس جاری کیے جانے سے ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کے تعلق سے تشویش کی ایک نئی لہر پیدا ہو گئی ہے۔
شہری حکام نے تجدید کاری اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے دعوے کے ساتھ صدیوں پرانے اسلامی مقامات کے خلاف سخت انتظامی اقدامات شروع کر دیے ہیں، ایسا طرزِ عمل جس کے نتیجے میں قانونی مہلت ختم ہونے سے پہلے ہی پانی اور بجلی جیسی بنیادی خدمات منقطع کر دی جاتی ہیں۔
«ملت ٹائمز انڈیا (Millat Times)» نیوز پورٹل کی رپورٹ کے مطابق، آزاد نگراں اداروں کے جمع کردہ اعداد و شمار سے مختلف ریاستوں میں دو ہزار سے زائد انتظامی کارروائیوں اور درجنوں مساجد و دینی مدارس کی مسماری کی تصدیق ہوتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے حقوقِ انسانی کے ماہرین اور سماجی کارکنوں نے قوانین کے منتخب نفاذ اور «بلڈوزر انصاف» پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان اقدامات کو ہندوتوا کے بالادستی پسند نظریے کی قیادت میں مسلمانوں کے تاریخی آثار و میراث کو مٹانے کی منظم مہم قرار دیا ہے۔




