شیعہ مرجعیت

آیت اللہ العظمیٰ شیرازی: معمولی جسمانی نقصان شرعاً حرام نہیں، انسان کو اپنے بدن پر اختیار حاصل ہے

آیت اللہ العظمیٰ شیرازی: معمولی جسمانی نقصان شرعاً حرام نہیں، انسان کو اپنے بدن پر اختیار حاصل ہے

آیت اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی روزانہ علمی نشست جمعرات 10 جمادی الاول 1448ھ کو منعقد ہوئی، جس میں انہوں نے گزشتہ نشستوں کی طرح مختلف فقہی مسائل پر حاضرین کے سوالات کے جواب دیے۔
خود کو نقصان پہنچانے (اضرار بالنفس) کی فقہی حدود اور دلائل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جسم کو نقصان پہنچانا صرف تین صورتوں میں قطعی طور پر حرام ہے۔ پہلی صورت خودکشی ہے، جس کی دلیل قرانی  آیت (اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو) ہے۔ دوسری صورت کسی عضو یا جسمانی صلاحیت کا مکمل طور پر ختم ہو جانا ہے، جیسے اندھا پن، بہرہ پن یا مستقل بانجھ پن، جس پر فقہا کا اجماع ہے۔ تیسری صورت خود کو کینسر اور ٹی بی جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا کرنا ہے، جو متشرعہ کے قطعی ارتکاز سے ثابت ہے۔
وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ انسان کو اپنے بدن پر اختیار حاصل ہے، اور مذکورہ تین صورتیں قرآن، اجماع اور ارتکازِ متشرعہ جیسے خاص دلائل کی بنا پر اس اصول سے مستثنیٰ ہیں۔ اس لیے معمولی نقصانات شرعاً حرام نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معصومین علیہم السلام کی سیرت میں سختیاں برداشت کرنا اس کی دلیل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نماز میں اتنی دیر کھڑے رہتے تھے کہ ان کے پاؤں سوج جاتے تھے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button