ایران کے 265 شہروں میں زمین دھنسنے کا بحران

زمین دھنسنے کا مظہر ایران میں قومی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے اور ملک کے وسیع حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر عمارتوں، زرعی زمینوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کی سلامتی کو سنگین خطرے میں ڈال چکا ہے۔
کرمان، اصفہان اور تہران کے صوبے ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں زمین کے دھنسنے کی شرح اور بنیادی ڈھانچے کی کمزوری سب سے زیادہ ہے۔
خبر رساں ویب سائٹ «رکنا» نے سائنسی جریدے «سائنس ایڈوانسز» (Science Advances) اور میڈیا رپورٹوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے جائزے کی بنیاد پر زیرِ زمین پانی کے ذخائر سے بے تحاشا پانی نکالا جانا اس بحران کی اصل وجہ ہے۔
صوبہ اصفہان میں اس مظہر نے ۲۸۵ مساجد اور درجنوں اسکولوں کو انتہائی خطرناک علاقوں میں لا کھڑا کیا ہے، جبکہ تہران اور کرمان میں زمین دھنسنے کی سالانہ شرح ۳۰ سینٹی میٹر سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مٹی کی تہوں کے دب جانے سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی ہے، اور اس صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے کاشت کے طریقوں کی اصلاح اور آبی وسائل کے انتظام میں فوری تبدیلی ناگزیر ہے۔




