شیعہ مرجعیت

غیر مختار انسان مستحقِ عقاب نہیں؛ اختیار ہی تکلیف کا رکن ہے: آیت اللہ العظمیٰ شیرازی

غیر مختار انسان مستحقِ عقاب نہیں؛ اختیار ہی تکلیف کا رکن ہے: آیت اللہ العظمیٰ شیرازی
 
آیت اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی روزانہ علمی نشست بدھ ۹ جمادی الاول ۱۴۴۸ ہجری کو منعقد ہوئی۔
اس نشست میں بھی، گزشتہ نشستوں کی طرح، معظم لہ نے حاضرین کے مختلف فقہی مسائل سے متعلق سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے۔
آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے عقابِ الٰہی اور اختیار کے باہمی تعلق کے بارے میں فرمایا: خداوندِ متعال کا عقاب اور جزا، اختیار کے ساتھ براہِ راست اور اٹوٹ رشتہ رکھتے ہیں؛ لہٰذا غیر مختار انسان عقاب کا مستحق نہیں ہے۔
معظم لہ نے مفہومِ اختیار کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: اگر انسان اختیار سے عاری ہو، جیسے پتھر یا لوہے کی شہتیر کا گرنا جس میں اس کا اپنا کوئی اختیار نہیں، یا وہ شخص جسے بلندی سے دھکیل دیا گیا ہو اور وہ کسی دوسرے پر گر کر اس کی موت کا سبب بن جائے، تو اس کا کوئی قصور نہیں؛ نہ وہ عقاب کا مستحق ہے اور نہ ہی اس پر دیت عائد ہوتی ہے، بلکہ ذمہ داری سبب یعنی (دھکا دینے والے شخص) پر عائد ہوگی۔
آپ نے انسانی رویوں میں سجایا (اخلاقی و طبعی خصوصیات) کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگرچہ آیۂ شریفہ «کُلٌّ یَعْمَلُ عَلَی شَاکِلَتِهِ» (ہر شخص اپنی روحی و اخلاقی ساخت کے مطابق عمل کرتا ہے) اور روایات کی رو سے سجایا اور اخلاقی خصوصیات افراد کے اعمال اور ردِّعمل پر اثر انداز ہوتی ہیں، لیکن یہ چیز اختیار کو سلب نہیں کرتی؛ کیونکہ اختیار، تکلیف کا بنیادی رکن اور مخالفت کے وقت استحقاقِ عقاب کی شرط ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button