ہڈیوں کی کمزوری کا عالمی یومِ (آسٹیوپوروسس)؛ طبّی تحقیقات اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خاموش مرض کی روک تھام، تشخیص اور علاج کی ضرورت

۲۰ اکتوبر، یعنی عالمی یومِ آسٹیوپوروسس کی مناسبت سے ماہرینِ صحت اور سماجی مبصرین اس خاموش بیماری کے مقابلے کے لیے عوامی بیداری میں اضافے، صحت بخش غذا اور جسمانی حرکت و ورزش کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں۔
جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسم اور ہڈیوں کی صحت پر توجہ نہ صرف جدید طب کے نقطۂ نظر سے صحت مند زندگی کی بنیاد ہے، بلکہ قرآنِ کریم اور اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات میں بھی اسے ایک ذاتی اور الٰہی ذمہ داری کے طور پر خاص اہمیت دی گئی ہے۔
ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے، آئیے مل کر دیکھتے ہیں:
ہڈیوں کی کمزوری، جسے آسٹیوپوروسس کہا جاتا ہے، پوری دنیا میں عوامی صحت کے بڑے مسائل میں شمار کی جاتی ہے۔
نشریاتی ادارے «بی بی سی» (BBC) کی رپورٹ کے مطابق، یہ بیماری، جو ہڈیوں کی کثافت اور معیار گھٹنے کا سبب بنتی ہے، اکثر بغیر کسی علامت کے آگے بڑھتی رہتی ہے اور انسان کو اس کا علم اسی وقت ہوتا ہے جب کولہے، کلائی یا ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف دہ فریکچر ہو جائے۔
بین الاقوامی ادارۂ صحت ہر سال ۲۰ اکتوبر کو مختلف مہمّوں کے ذریعے عالمی برادری کو ہڈیوں کی کثافت کی جانچ، کیلشیم اور وٹامن ڈی کی خاطر خواہ مقدار کے حصول اور مسلسل ورزش کی دعوت دیتے ہیں۔
طبّی علوم کے اعتبار سے آسٹیوپوروسس کی روک تھام بچپن اور نوجوانی سے، یعنی مضبوط ہڈیوں کی تشکیل کے زمانے سے شروع ہونی چاہیے اور بڑھاپے میں سست و کاہل طرزِ زندگی سے پرہیز کے ساتھ جاری رہنی چاہیے۔
تاہم جسم اور ہڈیوں کی صحت کے ابعاد محض طبّی ہدایات سے کہیں آگے ہیں اور اسلامی طرزِ زندگی میں صحت کی ثقافت سے پیوستہ ہیں۔
قرآنی تعلیمات میں ہڈیوں کو انسانی جسم کی بنیاد اور قوام بخشنے والا عنصر بتایا گیا ہے۔
قرآنِ کریم سورۂ مبارکۂ مریم کی چوتھی آیت میں حضرت زکریا علیہ السلام کی زبانی ارشاد فرماتا ہے: «رَبِّ إِنِّی وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّی» (پروردگارا! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں)۔
یہ دقیق تعبیر ظاہر کرتی ہے کہ ہڈیوں کا کمزور اور ناتواں ہو جانا بڑھاپے اور جسمانی ضعف کی بنیادی علامتوں میں شمار ہوتا ہے، اور جسم کے اس حصے کی طرف توجہ بے حد اہمیت رکھتی ہے۔
اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات اور سیرت میں بھی جسم کی صحت کی دیکھ بھال، مناسب غذا اور سستی سے اجتناب کی متعدد تاکیدیں وارد ہوئی ہیں۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے ارشاد فرمایا ہے: «نِعْمَتانِ مَجْهولَتانِ الصَّحَّةُ وَ الْأمانُ»، یعنی «دو نعمتیں ایسی ہیں جن کی قدر نہیں پہچانی جاتی: امن و امان اور تندرستی»۔
اسی طرح اسلامی مآخذ میں ایسی قدرتی غذاؤں کے استعمال پر زور دیا گیا ہے جو ہڈیوں کو مضبوط کرتی اور بدن کی نشو و نما کا سبب بنتی ہیں؛ چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے انجیر، دودھ اور گوشت کو ہڈیوں کی تقویت اور جسم کی نشو و نما کے لیے مفید قرار دیا ہے۔
نیز معصومین علیہم السلام کی سیرت میں انفرادی اور اجتماعی فرائض کی ادائیگی کے لیے جسمانی توانائی کو برقرار رکھنے کی غرض سے ورزش اور جسمانی حرکت کی اہمیت پر ہمیشہ تاکید رہی ہے۔
جدید طبّی نگہداشت اور دینی تعلیمات کا امتزاج طرزِ زندگی کی اصلاح کا ایک جامع نمونہ پیش کرتا ہے۔ غیر صحت بخش غذا سے پرہیز، جسمانی حرکت میں اضافہ، دھوپ سے استفادہ اور تقویت بخش غذاؤں کا استعمال، توکل اور امانتِ الٰہی، یعنی انسانی جسم، کی حفاظت کے ساتھ، آسٹیوپوروسس سے بچاؤ اور ایک صحت مند معاشرے کے حصول کی کلیدی تدبیر شمار ہوتی ہے۔




