خبریں

ترقی پذیر معاشروں میں  آٹھ سو ملین نوجوانوں کے بے روزگار ہونے کا خطرہ ، معاشی پالیسیاں اپنانے کی ضرورت 

نئی بین الاقوامی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر حکومتوں نے معاشی منصوبہ بندی کے میدان میں بروقت قدم نہ اٹھایا تو آنے والے برسوں میں کروڑوں نوجوان بے روزگاری اور مناسب ملازمت کے مواقع سے محرومی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

کیے گئے جائزوں کے مطابق، جواں سال افرادی قوت کی ایک بڑی لہر کے روزگار کی منڈی میں داخل ہونے سے، بالخصوص ترقی پذیر ملکوں میں، معاشی اور سماجی ڈھانچوں پر بے مثال دباؤ پڑا ہے۔اخبار «فائنینشل ٹائمز» کی رپورٹ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ الیگزینڈر ڈی کرو نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ پندرہ برسوں میں تقریباً ایک ارب بیس کروڑ نوجوان فارغ التحصیل ہو کر روزگار کی منڈی میں قدم رکھیں گے، لیکن اندازے بتاتے ہیں کہ ان میں سے صرف چالیس کروڑ کے لیے ملازمتیں میسر ہوں گی۔

اس بین الاقوامی ادارے کا زور اس پر ہے کہ آٹھ سو ملین نوجوانوں کے بے روزگار ہونے کی پیش گوئی ٹیکنالوجی کی موجودہ صورتِ حال کی بنیاد پر کی گئی ہے، اور اس بحران سے بچاؤ کے لیے حکومتوں کا کاروباری و ذاتی روزگار کی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنا ناگزیر ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button