یورپ

مارین لوپین کے صدر منتخب ہونے کی صورت میں فرانس کے 46 فیصد مسلمان ملک چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں 

فرانسیسی رائے عامہ کے ادارے "ایفاپ” (Ifop) نے جریدہ "ماریان” (Marianne) کے لیے جو سروے کیا، اس سے معلوم ہوا ہے کہ فرانس میں شریکِ سروے 46 فیصد مسلمان اس صورت میں ملک چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ اگر انتہا پسند دائیں بازو کی جماعت "نیشنل ریلی” کی سربراہ مارین لوپین آئندہ صدارتی انتخاب جیت جائیں۔

80 فیصد سے زائد شرکا نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ لوپین کی صدارت میں مسلمانوں پر حملوں اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک میں اضافہ ہو جائے گا۔ دوسری طرف 27 فیصد نے کہا کہ وہ روزمرہ زندگی میں اپنی مذہبی شناخت کو چھپانا پسند کریں گے۔سروے کے مطابق ترکِ وطن کی خواہش نئی نسل (جنریشن زیڈ) کے شرکا میں، جہاں یہ شرح 40 فیصد رہی، اور بائیں بازو کے سیاست داں ژاں لوک میلانشون کے حامیوں میں، جہاں یہ 43 فیصد رہی، خاص طور پر نمایاں ہے۔

یہ نتائج اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ انتہا پسند دائیں بازو کی انتخابی کامیابی کی صورت میں امتیازی سلوک اور شہری آزادیوں کے بارے میں مسلم شرکا کے اندر تشویش پائی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button