ہندوستان

علماء و مبلغین خطبہ فدک کو عام کریں: مولانا سید رضا حیدر زیدی

لکھنؤ، 16 اکتوبر: شاہی آصفی مسجد، لکھنؤ میں 16 اکتوبر 2026ء کو نماز جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی، پرنسپل حوزہ علمیہ غفران مآبؒ کی اقتدا میں ادا کی گئی۔ خطبۂ جمعہ میں انہوں نے تقویٰ الٰہی، معرفتِ خداوندی، ولایتِ اہل بیت علیہم السلام، خاندانی تعلقات اور اسلامی معاشرے کو درپیش مسائل پر گفتگو کی۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے پہلے خطبہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی تعلیمات کی روشنی میں معرفتِ الٰہی اور الہام کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر باطنی خیال کو الہامِ الٰہی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کسی خیال کی صحت کو قرآن، سنت اور عقل کی روشنی میں پرکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے امام معصومؑ کے الہام اور عام انسان کے باطنی خیال میں فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ اہل بیت علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ نے علم، فضائل اور کمالات کے بلند مراتب عطا کئے اور دین کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی ہے۔

انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی تعلیمات اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے خطبۂ فدکیہ کے بعض مضامین کا تقابلی مطالعہ پیش کرتے ہوئے علماء اور مبلغین پر زور دیا کہ وہ خطبۂ فدکیہ کا مطالعہ کریں اور اس کی تعلیمات کو منبر و مجالس کے ذریعہ عام کریں۔ ان کے مطابق معرفتِ الٰہی اور ولایتِ اہل بیت علیہم السلام کی حقیقی معرفت انسان کی فکری و اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت کے حوالے سے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے آپؑ کے علمی و روحانی مقام اور سیرت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے آپؑ کے معروف القاب، بالخصوص ’’عالمہ غیر معلّمہ‘‘ اور ’’کفیلۃ السجاد‘‘، کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپؑ کی زندگی علم، ایمان، استقامت اور ذمہ داری کے احساس میں اہل ایمان کے لئے نمونۂ عمل ہے۔ انہوں نے سامعین کو سیرتِ حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے رہنمائی حاصل کرنے کی تلقین کی۔

لکھنو کی قدیمی کربلا دیانت الدولہ بہاد کے ایک مینار کے منہدم ہونے کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے مذہبی و تاریخی عمارتوں، مساجد اور امام بارگاہوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمارتیں مذہبی شناخت اور تاریخی ورثے کا اہم حصہ ہیں، اس لئے ان کی حفاظت کے لئے باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر سنجیدہ اقدامات کئے جانے چاہییں۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے خطہ کی کشیدہ صورت حال اور جاری تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے مسلمانوں کو حقائق کی تحقیق کرنے اور مذہب کے نام پر کئے جانے والے پروپیگنڈے سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی۔ انہوں نے عالم اسلام میں اتحاد، مظلوموں کی حمایت اور امن و انصاف کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ تاہم، خطہ کے بعض سیاسی و عسکری معاملات پر ان کے تبصرے ان کی تقریر کا حصہ تھے۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو تقویٰ، معرفتِ اہل بیت علیہم السلام اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، نیز مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر مذہبی و تاریخی مقامات کی حفاظت فرمائے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button