شیعہ مرجعیت

حاکمِ وقت یا ظالم سے ہدیہ و مال قبول کرنا، بشرطیکہ اس سے اس کی تائید نہ ہوتی ہو تو شرعاً جائز ہے  : آیت اللہ العظمیٰ شیرازی

آیت اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی روزانہ علمی نشست بروزِ ہفتہ، پانچ جمادی الاول سنہ 1448 ہجری کو منعقد ہوئی۔

اس نشست میں بھی، سابقہ نشستوں کی طرح، معظم لہ نے حاضرینِ مجلس کے مختلف فقہی مسائل پر مبنی سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے۔

آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے حاکم یا ظالم شخص سے ہدیہ یا مال لینے کے شرعی حکم سے متعلق ایک سوال کے جواب میں، فقہی کتابوں میں منقول روایات، بالخصوص مرحوم شیخ انصاریؒ کی «مکاسب» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حاکم یا ظالم شخص کا ہدیہ قبول کر لینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ اس سے کسی طرح بھی اس کے ظلم و ستم پر مبنی طرزِ عمل یا اقدامات کی تائید نہ ہوتی ہو۔ آئمۂ اطہار علیہم السلام نے اسے حلال قرار دیا ہے۔ لیکن اگر مال لینے سے ظالم کی تائید ہو جائے تو پھر وہ کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہوگا۔

معظم لہ نے معصومین علیہم السلام کے ظالم حکمرانوں کے ہدیے قبول کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے، آئمۂ اطہار علیہم السلام کی مال و دولت پر ولایتی مالکیت کی توضیح فرمائی اور اس بات پر زور دیا کہ چونکہ ظالم حاکم نے ناحق طور پر یہ اموال غصب کیے ہیں، اس لیے ان اموال کا لینا درحقیقت غصب شدہ حق کی واپسی شمار ہوتا ہے۔

آپ نے مزید فرمایا اور موضوع کو واضح کرنے کے لیے ایک سیدھی سی مثال دی کہ جس طرح اگر کوئی شخص آپ کا گھر غصب کر لے اور پھر اس کا کوئی حصہ یا کچھ مال آپ کو لوٹا دے تو اس کو لے لینا آپ کا حق ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ اصل مال تو اس کے حقیقی مالک کا ہے؛ اسی طرح ظالم حاکم کا ہدیہ دینا بھی محض غصب شدہ حق کو اس کے مالک تک لوٹانا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button