دنیامقالات و مضامین

17 اکتوبر، غربت کے خاتمے کا بین الاقوامی دن اور ہماری ذمہ داری

غربت صرف بھوک اور بے روزگاری کا نام نہیں، بلکہ یہ تعلیم، صحت اور باوقار زندگی کے مواقع بھی چھین لیتی ہے۔ 17 اکتوبر، غربت کے خاتمے کا بین الاقوامی دن، ہمیں یاد دلاتا ہے کہ محروموں کی مدد محض خیرات نہیں، بلکہ ایک اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے۔

قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے: "وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ۔” یعنی ’’اور ان کے اموال میں سائل اور محروم کا حق ہوتا تھا۔‘‘ (سورۂ ذاریات، 51:19)

سورۂ ماعون میں یتیم کو دھتکارنے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہ دینے کی مذمت کی گئی ہے (107:1-3)۔ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی سیرت اور جناب مالک اشتر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے نام آپؑ کے عہدنامے میں بھی کمزور طبقات کے حقوق اور ان کی دیکھ بھال پر زور دیا گیا ہے۔

سلطان المؤلفین مرجعِ راحل آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد حسینی شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی فکری میراث اور مرجعِ عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کے دفتر کی عربی ویب سائٹ پر شائع شدہ مضامین "أزمة الفقر والإدارة السيئة” اور "السياسة العادلة كفيلة بالقضاء على الفقر” میں غربت، وسائل کے ناقص انتظام اور عادلانہ پالیسیوں کے تعلق پر گفتگو ملتی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ غربت کے خاتمے کے لئے انفرادی امداد کے ساتھ منصفانہ مواقع اور ذمہ دارانہ انتظام بھی ضروری ہیں۔

آئیے، عملی قدم اٹھائیں!

غربت کے خاتمے کی دعوت اسی وقت مؤثر ہوگی جب ہم اسے عمل میں بدلیں:

1. تعلیم: مستحق بچوں کی فیس، کتابوں اور تعلیمی اخراجات کی ذمہ داری اٹھائیں۔
2. روزگار: بے روزگار نوجوانوں کو ہنر سکھانے اور چھوٹے کاروبار شروع کرنے میں مدد دیں۔
3. صحت: غریب مریضوں کے علاج اور مستحق خاندانوں کی بنیادی ضروریات کے لیے تعاون کریں۔
4. شرعی حقوق: خمس اور زکوٰۃ شرعی ضوابط کے مطابق مستحقین تک پہنچائیں۔
5. شفاف امداد: فلاحی کاموں میں دیانت داری، منصفانہ تقسیم اور عطیات کے حساب کو یقینی بنائیں۔
6. عزتِ نفس: ضرورت مندوں کی مدد خاموشی، احترام اور ان کی رازداری کا خیال رکھتے ہوئے کریں۔

آج ہی اپنے محلے میں ایسے ایک خاندان یا بچے کی نشاندہی کریں جسے تعلیم، علاج یا روزگار میں مدد درکار ہے، اور اس کی مدد کے لئے قابلِ عمل قدم اٹھائیں۔ مساجد، دینی ادارے، سماجی تنظیمیں اور اہلِ ثروت مل کر مستقل امدادی فنڈ اور ہنرمندی کے منصوبے قائم کریں تاکہ مدد وقتی سہارا بننے کے بجائے خود کفالت کا ذریعہ بنے۔

غربت کا خاتمہ صرف حکومت یا کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں؛ یہ ہم سب کا مشترکہ فریضہ ہے۔ آئیے، محروموں پر ترس کھانے سے آگے بڑھ کر ان کے حقوق ادا کریں، انہیں بااختیار بنائیں اور ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں غربت کسی انسان کی تعلیم، صحت اور باوقار زندگی میں رکاوٹ نہ بنے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button