تاریخ اسلام

یومِ ولادت باسعادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا؛ تاریخِ اسلام میں فصاحت، جہادِ تبیین اور روایتِ حق کا بے نظیر نمونہ

5 جمادی الاول، عقیله بنی ہاشم حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت کے موقع پر عالمِ اسلام اس خاتون کی یاد کو گرامی رکھتا ہے جنہیں علم، شجاعت اور بے نظیر فصاحت کو یکجا کر کے "عالمہ غیر معلمہ” کے شرف سے نوازا گیا اور ظالم حکمرانوں کے سامنے استقامت کے ذریعہ قیامِ حسینی کی جاودانیت اور اسلام کے اصیل پیغام کو تاریخ میں ضمانت بخشی۔

اس سلسلے میں ہمارے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:

5 جمادی الاول سنہ 5 ہجری کو مدینہ منورہ میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی جلیل القدر دختر کی بابرکت ولادت ہوئی۔

وہ خاتون جن کا مبارک نام معتبر روایات کی بنا پر خود پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے جبرئیل کے ذریعے وحی الہی سے "زینب” رکھا۔

پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے ولادت کے ابتدائی ایام ہی میں انہیں کرامت کے ساتھ سراہا، ان کی شباہت کو ان کی جدہ ماجدہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا سے تشبیہ دی اور سب کو اس گرانقدر مولود کے بلند مقام کے احترام کی وصیت فرمائی۔

تاریخِ اسلام کے معتبر مآخذ کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا نہ صرف پہلی صدی ہجری کی ممتاز ترین فقہا اور محدثین میں شمار ہوتی ہیں، بلکہ "عقیلہ بنی ہاشم”، "عارفہ”، "فاضلہ”، "معصومہ صغری”، "عقیلۃ النساء” اور "نائبۃ الحسین” جیسے درخشاں القاب آپ کے بلند علمی، معنوی اور انتظامی مقام کی گواہی دیتے ہیں۔

حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا اپنے والد ماجد کی خلافت کے دوران کوفہ میں خواتین کے لئے تفسیرِ قرآن کریم اور احکامِ شرعی کی باقاعدہ مجالس قائم فرماتی تھیں اور دین کے عمیق معارف، فقہ اور اسلام کی حقیقی فکر کی تعلیم دیتی تھیں۔

حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا کی عظمت اور روحِ پرعظمت کے ابعاد خاص طور پر تاریخی واقعہ کربلا میں اور سنگین مصائب، اپنے بزرگوار جد، والدہ، والد، امام مجتبی اور پھر سید الشہداء علیہم السلام کی شہادتوں کو برداشت کرنے کے بعد، جس بنا پر آپ "ام المصائب” کے لقب سے مشہور ہوئیں، نمایاں طور پر متجلی ہوئے۔

کوفہ میں آپ کے فصیح و بلیغ، مدلل اور حیرت انگیز بلاغت سے بھرپور خطبات، عبید اللہ بن زیاد سے گفتگو اور شام میں یزید کے دربار میں آپ کے خطبات، جو براہِ راست قرآنی آیات پر مبنی تھے، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے پرصلابت خطبات اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے خطبہ فدکیہ کی یاد تازہ کر گئے اور ظلم و ستم کے نظام کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔

یہ تاریخی اور سرنوشت ساز مجاہدت اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے روشنگری، اسارت کے دوران بحران کے بہترین انتظام اور اپنے سرشار الہی علم پر تکیہ کرتے ہوئے دینی احکام کے تحفظ، سنتِ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے احیاء اور امتِ اسلامی کی ہدایت میں بے بدل اور ماندگار کردار ادا کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button