
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں لباس سے متعلق جو نئے ضابطے منظور کیے گئے ہیں، ان کے نتیجے میں باحجاب طالبات اور اساتذہ کو کلاسوں میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ اس کے خلاف باکو میں سڑکوں پر احتجاج ہوئے اور درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
الجزیرہ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات تعلیمی نظام میں سیکولرازم کے اصول کی حفاظت کے نام پر کیے گئے ہیں۔ اس کی وجہ سے اس شیعہ اکثریتی ملک میں مذہبی آزادیوں کی حدود اور مسلم لڑکیوں کے حقِ تعلیم کے بارے میں ایک وسیع بحث چھڑ گئی ہے اور بیرونِ ملک سے بھی سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔
عربی 21 کی رپورٹ کے مطابق ان واقعات پر ترکیہ کے ذرائع ابلاغ، اخبارات اور سیاسی حلقوں میں غم و غصے اور تنقید کی لہر دوڑ گئی ہے، یہاں تک کہ ترکیہ کے اخباروں نے ان پابندیوں کو ظلم اور تعلیم سے محرومی قرار دیا ہے اور انہیں ترکیہ میں مذہبی جبر کے دور سے مشابہ بتایا ہے۔
دوسری طرف آذربائیجان کے حکام اور برسرِ اقتدار جماعت نے ان مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ترکیہ کی تنقید کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے اور زور دے کر کہا ہے کہ وہ بیرونی مذہبی اقدار کو درآمد کرنے اور ملک کے سیکولر نظام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا مقابلہ کریں گے۔




