افغانستان

جنوبی افغانستان میں تعلیمی بحران شدت اختیار کر گیا، ہزاروں طلبہ کھلے آسمان تلے تعلیم پر مجبور

جنوبی افغانستان میں نظامِ تعلیم سنگین ساختی بحران سے دوچار ہے، جہاں ہزاروں طلبہ کلاس رومز اور بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باعث کھلے آسمان تلے، شدید گرمی اور گرد و غبار میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

صوبہ غزنی میں 700 اسکولوں میں سے 200 اسکول سرے سے عمارت ہی نہیں رکھتے، جبکہ 250 اسکولوں کو فوری تعمیرِ نو کی ضرورت ہے۔

روزنامہ العربی الجدید کی رپورٹ کے مطابق مسئلہ صرف عمارتوں کا نہیں، بلکہ اساتذہ کی شدید کمی نے بھی تعلیمی عمل کو مفلوج کر رکھا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق غزنی میں 10 ہزار تدریسی آسامیوں میں سے 3 ہزار آسامیاں خالی ہیں، جس کے باعث ریاضی، سائنس اور زبان جیسے بنیادی مضامین کی تدریس شدید متاثر ہو رہی ہے۔

قبائلی عمائدین اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ عوامی تعاون سے وقتی ضروریات تو کسی حد تک پوری ہو رہی ہیں، لیکن اس بحران کے مستقل حل کے لیے حکومت اور امدادی اداروں کی فوری اور سنجیدہ مداخلت ناگزیر ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button