ہندوستان

رشتۂ ازدواج کے انتخاب میں دین اور اخلاق کو معیار قرار دیں: مولانا سید رضا حیدر زیدی

لکھنؤ، 2 اکتوبر 2026ء کو شاہی آصفی مسجد میں نمازِ جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی، پرنسپل حوزۂ علمیہ غفران مآبؒ لکھنؤ، کی اقتدا میں ادا کی گئی۔ خطبۂ جمعہ میں انہوں نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے طلاق کے واقعات، خاندانی اختلافات اور نکاح کو مشکل بنانے والی غیر ضروری رسومات پر گفتگو کرتے ہوئے رشتۂ ازدواج کے انتخاب میں دین، ایمان اور حسنِ اخلاق کو بنیادی معیار قرار دینے پر زور دیا۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ طلاق کے بڑھتے ہوئے واقعات کے اسباب پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رشتے کے انتخاب میں ظاہری حسن اور مال و دولت کے بجائے ایمان، دینی مزاج اور حسنِ کردار کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ میاں بیوی کے درمیان باہمی احترام، حسنِ سلوک اور ذمہ داری کو انہوں نے ازدواجی زندگی کے استحکام کے لئے ضروری قرار دیا۔

شادی بیاہ میں رائج غیر ضروری رسوم و اخراجات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ اسلام نے نکاح کو آسان رکھا ہے، لیکن معاشرتی رسومات نے اسے کئی جگہ مشکل بنا دیا ہے۔ انہوں نے سادگی کے ساتھ نکاح کرنے اور شرعی تقاضوں، بالخصوص فریقین کی رضامندی اور مہر، کا خیال رکھنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ میاں بیوی کے باہمی رویوں کا اثر بچوں کی تربیت پر بھی پڑتا ہے، اس لئے گھر کے ماحول کو محبت، احترام اور دینی اقدار سے آراستہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

خطبہ کے دیگر حصوں میں مولانا سید رضا حیدر زیدی نے توحید و معرفتِ الٰہی اور توحیدِ مفضل کے حوالے سے کائنات اور انسانی وجود میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر غوروفکر کی اہمیت بیان کی۔ گاندھی جینتی کے موقع پر امن، باہمی احترام اور بھائی چارے کی ضرورت پر گفتگو کی، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے فرقہ وارانہ تعصبات سے بالاتر ہوکر حالات کو ظلم و عدل کے اصولوں کی روشنی میں دیکھنے کی تلقین کی۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو عملی زندگی میں اختیار کرنے، واجبات کی ادائیگی، محرمات سے اجتناب اور معاشرتی اصلاح کی تلقین کی۔ انہوں نے ملک میں امن و سلامتی، باہمی محبت و بھائی چارے اور خاندانی نظام کے استحکام کے لئے دعا کی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button