اقوامِ متحدہ میں سوڈان کے نمائندہ کا انکشاف: امارات جنگ کے طول، دولت کی لوٹ مار اور سوڈانی عوام کے انسانی بحران کا ذمہ دار

اقوامِ متحدہ میں سوڈان کے سفیر و مستقل مندوب نے امارات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے سوڈان میں جنگ اور بحران کے طوالت کا اصل عامل قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ابوظبی کی جانب سے مسلح ملیشیا کی مالی و عسکری پشت پناہی اور قدرتی وسائل کی لوٹ مار نے انسانی المیہ جنم دیا ہے اور لاکھوں سوڈانیوں کو دربدر کر دیا ہے۔
اس حوالے سے ہمارے ساتھی نے ایک رپورٹ تیار کی ہے جو ہم مل کر دیکھتے ہیں:
سوڈان کی خونریز جنگ جو اپریل 2023 میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان شروع ہوئی، نے عوام کی زندگی کو تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک اس جنگ میں 30 ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور 44 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
اسی طرح تقریباً 14 ملین افراد اپنے گھر بار سے محروم ہو کر بے گھر ہو گئے ہیں اور تقریباً 34 ملین افراد فوری انسانی امداد کے محتاج ہیں؛ ایسی صورتحال جسے اقوامِ متحدہ نے دنیا کا سب سے بڑا نقل مکانی کا المیہ قرار دیا ہے۔
اس جنگ کے جاری رہنے کی اصل وجہ بیرونی طاقتوں کی کھلی مداخلت ہے۔
مڈل ایسٹ نیوز کی رپورٹ کے مطابق جنرل اسمبلی میں سوڈان کے سفیر کے بیانات اور انکشافات سے پتہ چلتا ہے کہ ابوظبی ریپڈ سپورٹ فورسز کو اسلحہ، عسکری ساز و سامان اور لاجسٹک سہولیات فراہم کر کے جنگ کو طول دینے اور عوام کی زندگی مزید اجیرن بنانے میں براہِ راست ملوث ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات بے بنیاد ہیں اور امارات کی جانب سے پھیلائے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ علاقائی اداروں پر سفارتی دباؤ ڈال کر جنگ بندی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا، اس مداخلت کے وسیع تر عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ بیرونی مالی و عسکری امداد کی شریانیں کاٹے بغیر سوڈان کا بحران ختم نہیں ہوگا اور عالمی برادری کو مداخلت کاروں کو روکنے کے لئے فوری عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
دوسری جانب امارات کے معاشی مفادات اور سوڈانی عوام کی کانوں اور دولت کی لوٹ مار اس بحران کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
مڈل ایسٹ نیوز کی بنیاد پر، اقوامِ متحدہ میں سوڈان کے نمائندے نے ابوظہبی کے خلاف انتہائی سخت اور غصے بھرے لہجے میں کہا کہ اماراتی حکام کا سیاسی قد و وزن اس سے کہیں کمتر ہے کہ وہ سوڈانی قوم کی تقدیر میں مداخلت کریں۔
رپورٹس کے مطابق امارات سوڈان کی سونے کی کانوں اور قومی دولت کو لوٹ کر جنگ کے اخراجات پورے کر رہا ہے اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے باغی کمانڈروں کو دبئی اور ابوظبی میں خصوصی اقامہ اور پرتعیش ویلاز دے کر انہیں اپنے ہی ملک کی تباہی جاری رکھنے پر اکسا رہا ہے۔




