امریکی ریاست ٹیکساس کی سرکاری یونیورسٹیز میں مسلم طلبہ تنظیموں کی تحلیل اور لائسنس منسوخی کے لئے ایک امریکی تعلیمی عہدیدار کا اسلام دشمن مطالبہ
امریکی ریاست ٹیکساس کی سرکاری یونیورسٹیز میں مسلم طلبہ تنظیموں کی تحلیل اور لائسنس منسوخی کے لئے ایک امریکی تعلیمی عہدیدار کا اسلام دشمن مطالبہ
امریکہ میں بعض ریاستی حکام کی جانب سے مسلم طلبہ کی مذہبی و مدنی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لئے اسلام دشمنی پر مبنی نئی کوششیں سامنے آ رہی ہیں۔
یہ اقدامات جو اسلام مخالف رویوں کے تحت کئے جا رہے ہیں، اعلیٰ تعلیمی مراکز میں اسلامی تنظیموں کے فلاحی، تعلیمی اور سماجی خدمات کے پروگراموں کو مشکلات سے دوچار کر رہے ہیں۔
جریدے ڈلاس ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ریاست ٹیکساس کے بورڈ آف ایجوکیشن کے رکن برینڈن ہال نے اس ریاست کی سرکاری یونیورسٹیوں میں مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشنز کی سرگرمیوں پر پابندی اور ان کے لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس امریکی عہدیدار نے ساختیاتی اثر و رسوخ اور سکیورٹی خطرات کا دعویٰ کرتے ہوئے ان تنظیموں کی سرگرمیوں کو مشکوک قرار دیا ہے۔
حالانکہ اس سے قبل ٹیکساس کی یونیورسٹیوں کے ذمہ داران مسلم طلبہ تنظیموں کے کردار کو تعلیمی خدمات کی فراہمی، ثقافتی و قرآنی پروگراموں کے انعقاد اور طلبہ کے مابین روابط کو مستحکم بنانے میں مثبت قرار دے چکے تھے۔




