دہلی میں مساجد پر حملوں اور ایس آئی آر کے خلاف احتجاج، 3 مسلم اراکینِ پارلیمان سمیت متعدد افراد حراست میں

نئی دہلی: مساجد و دیگر عبادت گاہوں پر حملوں، ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) اور اقلیتوں کے خلاف مبینہ تشدد کے خلاف منگل کو جنتر منتر پر احتجاج کیا گیا۔ دہلی پولیس نے مظاہرے کی اجازت نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے متعدد مظاہرین، خواتین، سماجی کارکنوں اور اراکینِ پارلیمان اقراء منور حسن، ضیاء الرحمن برق اور محب اللہ ندوی سمیت کئی افراد کو حراست میں لے لیا، جنہیں شام تک رہا کر دیا گیا۔
احتجاج کا اہتمام مانیٹرنگ کمیٹی آف انڈین مسلمز (MCIM) نے کیا تھا، جس میں مسلم تنظیموں کے نمائندوں، اراکینِ پارلیمان اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ’’مساجد پر حملے بند کرو‘‘، ’’بلڈوزر کارروائی بند کرو‘‘ اور ’’اقلیتوں کو امن سے جینے دو‘‘ جیسے نعرے لگائے۔
احتجاج سے قبل اے پی سی آر کے قومی سکریٹری ندیم خان کو بھی ان کے گھر میں نظر بند کئے جانے کی اطلاع ہے۔ مظاہرین نے حراست اور احتجاج کی اجازت نہ دیے جانے پر دہلی پولیس کے اقدام پر اعتراض کیا۔ یہ مظاہرہ اجین میں تاریخی شاہی مسجد کے بعض حصوں کو سڑک کی توسیع کے پیش نظر ہٹائے جانے کے ایک روز بعد ہوا۔




