یورپ

یورپ میں حجاب کا تنازعہ پھر شدت اختیار کر گیا؛ اسپین اور پرتگال سے اٹلی تک برقع و نقاب کے خلاف سخت قوانین منظور

یورپ کے کئی ممالک میں چہرہ مکمل ڈھانپنے پر پابندیوں کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی و قانونی حلقوں میں گرم بحث بن گیا ہے۔

اسپین، پرتگال اور اٹلی سمیت مختلف ممالک میں عوامی مقامات اور اسکولوں میں برقع اور نقاب پر پابندی کے نئے قوانین نے مذہبی آزادی، خواتین کے حقوق اور شہریوں کے لباس میں ریاستی مداخلت کی حد پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اس حوالے سے ہمارے ساتھی کی تیار کردہ رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:

حالیہ ہفتوں میں یورپ میں مسلمانوں کے مذہبی پوشش پر دباؤ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

خبر رساں ایجنسی الجزیرہ کے مطابق مشرقی اسپین کے شہر لاریدا کی میونسپل کونسل نے شہری قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے عوامی مقامات پر برقع اور نقاب کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کی خلاف ورزی پر 400 سے 750 یورو تک جرمانہ عائد ہوگا۔

اسی دوران پرتگال نے بھی عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی کا قانون نافذ کیا ہے جس کے تحت 3000 یورو تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

اٹلی میں وزیراعظم جارجیا میلونی کی حکومت نے بھی نیا قانون منظور کرتے ہوئے اسکولوں میں برقع اور نقاب پہننے پر پابندی لگا دی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں اور کمسن طالبات کے والدین پر 200 سے 1000 یورو تک جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان قوانین کے حامی اپنے موقف کو سیکیورٹی، باہمی روابط میں آسانی، سماجی ہم آہنگی اور خواتین پر جبر کے خاتمے کے دلائل پر مبنی قرار دیتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی کے کارکنان خبردار کر رہے ہیں کہ ان سخت اقدامات کے نتائج برعکس نکلیں گے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے تاکید کی ہے کہ خواتین پر جرمانے عائد کرنا نہ صرف ان کی آزادی میں معاون نہیں بلکہ یہ انہیں مزید تنہائی، تعلیم و روزگار سے محرومی اور ان کی پرائیویسی و مذہبی آزادی کی پامالی کا سبب بنے گا۔

یہ نئی پابندیاں اس سلسلے کی کڑی ہیں جو 2010 میں فرانس سے شروع ہوا اور پھر بیلجیئم، ڈنمارک، آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ تک پھیل گیا۔

اگرچہ یورپی حکام ان اقدامات کو ہر ملک کی الگ پالیسی قرار دیتے ہیں، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلے امیگریشن مخالف سیاسی رجحانات اور انتخابی رقابتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔

یورپی یونین کی بنیادی حقوق کی ایجنسی کے اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ یورپ میں تقریباً نصف مسلمان نسلی امتیاز کا سامنا کرتے ہیں۔

یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مذہبی پوشش والی مسلم خواتین، بالخصوص ملازمت کی تلاش کے دوران، دوسروں کی نسبت زیادہ امتیازی سلوک کا شکار ہوتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون سازی کی اس لہر کے تسلسل نے اس تشویش کو بڑھا دیا ہے کہ مستقبل میں یہ پابندیاں نقاب سے بڑھ کر حجاب کی عام اقسام تک پھیل سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button