رشوت کا مطلب صرف یہ ہے کہ قاضی کو پیسہ دیا جائے تاکہ وہ حکمِ خدا کے خلاف فیصلہ کرے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
رشوت کا مطلب صرف یہ ہے کہ قاضی کو پیسہ دیا جائے تاکہ وہ حکمِ خدا کے خلاف فیصلہ کرے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کی روزانہ علمی نشست پیر 16 ربیع الثانی 1448ھ کو منعقد ہوئی۔
اس نشست میں حسبِ سابق معظم لہ نے حاضرین کی جانب سے مختلف فقہی مسائل پر پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے رشوت کے مفہوم کے حوالے سے فرمایا: رشوت کا حقیقی معنی صرف یہ ہے کہ قاضی کو مال دیا جائے تاکہ وہ "ما انزل اللہ” کے خلاف فیصلہ کرے۔
معظم لہ نے مزید فرمایا: یہ عمل حرام ہے اور قرآن کریم میں بھی آیا ہے کہ رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنم کی آگ میں ہوں گے۔
انہوں نے مزید تاکید فرمائی: کسی شخص کو پیسے دینا کہ وہ اس کے بدلے کوئی جائز اور حلال کام انجام دے، رشوت کے زمرے میں نہیں آتا اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔




