ثقافت اور فن

تہذیبوں کی تشکیل، علوم کی ترقی اور قرآنی تعلیمات و معارفِ اہلِ بیت علیہم السلام کی عالمی ترسیل میں ترجمے کا تزویراتی کردار

30 ستمبر، عالمی یومِ ترجمہ، ان گمنام مترجمین اور ماہرینِ لسانیات کی خاموش کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع ہے جو لسانی سرحدوں کو عبور کر کے اقوام کے مابین علم، ثقافت اور فکر کے تبادلے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔

ترجمہ زمانہ قدیم سے محض الفاظ کی تبدیلی کا سادہ آلہ نہیں، بلکہ انسانی علم و تہذیب کے تسلسل میں حیات بخش شریان کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس موضوع پر ہمارے ساتھی کی تیار کردہ رپورٹ ملاحظہ فرماتے ہیں:

آج کی دنیا میں جہاں معلومات کا تبادلہ بے مثال رفتار سے ہو رہا ہے، وہاں ترجمے کا فن و علم، علوم کی ترقی، ٹیکنالوجی کی نشوونما اور بین الاقوامی روابط کی توسیع میں کلیدی اور ناقابلِ انکار کردار ادا کر رہا ہے۔

30 ستمبر کو عالمی یومِ ترجمہ کے طور پر منانا ان گمنام معماروں کے بلند مقام کی یاد دہانی ہے جو متفاوت ثقافتوں کے درمیان پل تعمیر کر کے انسانوں کے لئے ایک دوسرے کی سائنسی کامیابیوں تک رسائی ممکن بناتے ہیں۔

ترجمہ کے عمل کے بغیر انسانی معاشروں کی ترقی اور گزشتہ نسلوں و ہمسایہ تہذیبوں کے تجربات کی منتقلی ممکن نہ تھی اور بہت سے علوم و فنون اپنے مرکزِ پیدائش کی جغرافیائی و لسانی حصار میں ہی محبوس رہ جاتے۔

عالمی کلینڈر میں 30 ستمبر کا دن محض ایک پیشے کی تکریم نہیں، بلکہ اس جریان کی قدردانی ہے جو دنیا کے علمی حلقوں کو باہم جوڑتا ہے۔

علوم کے فروغ میں ترجمے کا کردار اس قدر اہم ہے کہ جب بھی کوئی تہذیب عروج کی جانب گامزن ہوئی تو اس نے ترجمے کی بڑی تحریکوں کو اپنی تحقیقی ترجیحات میں سرِ فہرست رکھا۔

تخصصی، طبی، سائنسی اور ٹیکنالوجی سے متعلق متون کا مختلف زبانوں میں ترجمہ اس امر کا ضامن بنتا ہے کہ حصولِ علم کا سلسلہ منقطع نہ ہو اور دنیا کے گوشے گوشے میں محققین ایک دوسرے کی علمی بنیادوں پر نئی عمارتیں استوار کر سکیں۔

لہٰذا ترجمہ محض الفاظ کا تبادلہ نہیں، بلکہ مفاہیم کی تخلیقی بازآفرینی اور اقوام کے مابین اصیل و معاصر ثقافت کی منتقلی کا نام ہے۔

دینِ مبینِ اسلام کی تعلیمات، قرآنِ کریم اور روایاتِ معصومین علیہم السلام میں بھی پیغامِ حق کے ادراک، اس کی ترسیل اور باہمی تبادلے پر خاص تاکید کی گئی ہے۔

قرآنِ کریم اپنے پیغام کو آفاقی قرار دیتا ہے اور زبانوں اور رنگوں کے تنوع کو انسانوں کی شناخت و آگاہی کے لئے الٰہی نشانیوں میں شمار کرتا ہے، جیسا کہ سورہ روم آیت 22 میں ارشاد ہوتا ہے: "وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ”

"اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف ہے؛ بے شک اس میں صاحبانِ علم کے لیے نشانیاں ہیں۔”

یہ آیتِ شریفہ واضح کرتی ہے کہ زبانوں کا اختلاف رابطے میں رکاوٹ نہیں بلکہ باہمی تدبر اور شناخت کا ذریعہ ہے۔

اسی طرح سیرتِ معصومین علیہم السلام میں مختلف زبانوں کے سیکھنے اور پیغامِ حق کو دیگر اقوام تک پہنچانے پر بہت زور دیا گیا ہے۔

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ بعض صحابہ کو علاقائی زبانیں سیکھنے کا حکم فرماتے تھے تاکہ اسلام کا پیغام بلا واسطہ اور درست انداز میں منتقل ہو سکے۔

ائمہ اطہار علیہم السلام نے بھی معارفِ اہلِ بیت علیہم السلام کو ہر مخاطب کے لئے قابلِ فہم زبانوں میں نشر کرنے کی ضرورت پر تاکید فرمائی ہے۔

اس ضمن میں دینی متون اور اخلاقی تعلیمات کا دقیق ترجمہ، اسلام کے حقیقی چہرے کے تعارف، امن و اخلاق کے فروغ اور تحریف و انتہا پسندی کے مقابلے میں بے مثال کردار ادا کرتا ہے۔

لہذا مترجمین صرف علم و فکر کے خادم ہی نہیں بلکہ وہ پوری دنیا میں معارفِ الٰہی اور انسانی ثقافت کی تبلیغ کے حقیقی سفیر بھی بن سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button