29 ستمبر - عالمی یومِ قلب

دل، محض سینے میں دھڑکتا ہوا ایک عضو نہیں، بلکہ انسان کی پوری ہستی کا محور ہے۔ جدید طب کہتی ہے کہ یہ عضو دن بھر میں تقریباً ایک لاکھ مرتبہ دھڑک کر زندگی کو رواں رکھتا ہے۔ اسی لئے آج کی دنیا 29 ستمبر کو عالمی یومِ قلب کے طور پر مناتی ہے تاکہ انسان کو اس کی جسمانی صحت کا شعور دیا جا سکے۔ بلا شبہ متوازن غذا، روزانہ کی سیر، تمباکو نوشی سے پرہیز اور ذہنی دباؤ میں کمی، ایک صحت مند دل کے لئے ناگزیر ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا دل کی بیماری صرف کولیسٹرول اور بلڈ پریشر تک محدود ہے؟
قرآنِ کریم ہمیں ایک اور دل کی خبر دیتا ہے، جو لیبارٹری رپورٹ میں نظر نہیں آتا: "فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللہُ مَرَضًا” – ان کے دلوں میں ایک روگ ہے تو اللہ نے ان کے روگ میں اور اضافہ کر دیا۔
یہ وہ روگ ہے جو حسد سے پیدا ہوتا ہے، بغض و کینہ سے پروان چڑھتا ہے، اور حبِ دنیا سے گہرا ہوتا ہے۔
اہلِ بیت علیہم السلام نے دل کو "حرمِ خدا” قرار دیا ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "اَلْقَلْبُ حَرَمُ اللہِ فَلَا تُسْکِنُوْا فِیْ حَرَمِ اللہِ غَیْرَ اللہِ” دل اللہ کا حرم ہے، پس اللہ کے حرم میں غیرِ خدا کو مت بساؤ۔
مولائے کائنات امیر المومنین علیہ السلام نے قلبِ سلیم کی تشریح ان الفاظ میں فرمائی کہ جس دل میں خوفِ خدا، امیدِ رحمت اور محبتِ الٰہی تینوں جمع ہوں، وہی زندہ دل ہے۔
اسی لئے عالمی یومِ قلب پر ہماری ذمہ داری دوہری ہو جاتی ہے:
اول: جسمانی قلب کی حفاظت: سادگی اختیار کی جائے۔ ائمہ اطہار علیہم السلام کا دسترخوان ہمیشہ سادہ رہا۔ چکنائی، نمک اور غصے سے دوری، روزانہ آدھے گھنٹے کی چہل قدمی اور جسمانی ورزش کو معمول بنایا جائے۔ یاد رکھیے، ایک صحت مند جسم ہی بہتر عبادت اور بہتر خدمت کر سکتا ہے۔
دوم: روحانی قلب کی حفاظت: اس دل کو نفرت، تعصب اور تنگ نظری کے وائرس سے محفوظ رکھنا ہے۔ یہ دل امت کے مظلوم بچوں کے لئے تڑپے، یہ دل ہر بے گناہ کے لئے دھڑکے۔ کیونکہ قرآن کا وعدہ ہے: یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَ، اِلَّا مَنْ اَتَی اللہَ بِقَلْبٍ سَلِیْم یعنی
اس دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد، سوائے اس کے جو قلبِ سلیم لے کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو۔
آج کے دن جب دنیا کے ہسپتالوں میں امراضِ قلب کے وارڈ بھرے ہوئے ہیں، آئیے ہم عہد کریں کہ ہم اپنے دل کو ہر دو اعتبار سے صحت مند رکھیں گے۔ ایسا دل جو طبی اعتبار سے توانا ہو اور روحانی اعتبار سے حبِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام سے آباد ہو۔ کیونکہ جس دل میں عشقِ حیدر کرار علیہ السلام اور غمِ حسین علیہ السلام زندہ ہو، وہ دل کبھی مردہ نہیں ہوتا۔




