شام

شامی پناہ گزینوں کے بعض گروہوں کی واپسی اور بے دخلی کے منصوبے پر جرمنی کا نئی شامی حکومت سے مذاکرات

شامی پناہ گزینوں کے بعض گروہوں کی واپسی اور بے دخلی کے منصوبے پر جرمنی کا نئی شامی حکومت سے مذاکرات

جرمن حکومت نے اس ملک میں مقیم شامی پناہ گزینوں کے ایک حصے کی واپسی اور بے دخلی کے منصوبے پر عمل درآمد کے لئے نئی شامی حکومت کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ پیش رفت دمشق میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور شام کے عبوری دور کے سربراہ کے دورہ برلن کے بعد سامنے آئی ہے۔

نیوز نیٹ ورک رووداو کی رپورٹ کے مطابق جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے بتایا ہے کہ ان مذاکرات میں شامی پناہ گزینوں کو تین اہم گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے کہ سنگین جرائم کے مرتکب افراد، قانونی قیام کے امکان سے محروم افراد اور معاشرے میں ضم ہو جانے والے پناہ گزین۔

برلن کا فیصلہ ہے کہ پہلے اور دوسرے گروہ کو جلد از جلد رضاکارانہ واپسی یا جبری بے دخلی کے ذریعے وطن واپس بھیجا جائے۔

جرمن حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ نئی ہدایات کے اجراء کے ساتھ ساتھ وہ مہاجرین کو دیے گئے قیام کے تحفظ کی صورتحال پر نظرثانی کے عمل کو بھی وسعت دیں گے، اگرچہ فریقین کے درمیان ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button