حکومتوں کی نظر میں اسمگل شدہ سمجھے جانے والے سامان کی خرید و فروخت میں کوئی حرج نہیں، الا یہ کہ وہ معاشرے میں ہرج و مرج کا سبب بنے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
حکومتوں کی نظر میں اسمگل شدہ سمجھے جانے والے سامان کی خرید و فروخت میں کوئی حرج نہیں، الا یہ کہ وہ معاشرے میں ہرج و مرج کا سبب بنے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کی روزانہ علمی نشست، بروز ہفتہ 14 ربیع الثانی 1448ھ کو منعقد ہوئی۔
اس نشست میں حسبِ سابق معظم لہ نے حاضرین کے مختلف فقہی مسائل سے متعلق سوالات کے جوابات دیے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے اسمگل شدہ سامان کی خرید و فروخت اور بازار میں اس کے استعمال کے شرعی حکم سے متعلق فرمایا: قاچاق (اسمگلنگ) ایک ایسا قانون ہے جو حکومتوں کی جانب سے وضع کیا جاتا ہے، لیکن شرعاً حرام نہیں ہے۔
معظم لہ نے مزید فرمایا: اتفاقاً روایت میں آیا ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے بعض گورنروں کو تحریر فرمایا تھا کہ لوگوں کی تجارت میں مداخلت نہ کریں اور یہ نہ دیکھیں کہ وہ کون سا سامان برآمد یا درآمد کر رہے ہیں، بلکہ صرف اس بات کا خیال رکھیں کہ کوئی شخص دوسرے پر تعدی و ظلم نہ کرے۔
انہوں نے مزید تاکید فرمائی: لہٰذا جن اشیاء کو حکومتیں قاچاق شمار کرتی ہیں، ان کی خرید و فروخت میں شرعاً کوئی حرج نہیں، مگر یہ کہ اس سے معاشرے میں ہرج و مرج پیدا ہو۔




